پڑھ کر پھر کھڑے کھڑے دس مرتبہ اوپر والی تسبیح پڑھے پھر سجدہ میں جائے اور تین مرتبہ
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی
پڑھ کر پھر دس مرتبہ اوپر والی تسبیح پڑھے پھر سجدہ میں سے سر اٹھائے اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھ کر دس مرتبہ اوپر والی تسبیح پڑھے پھر دوسرے سجدہ میں جائے اور
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی
تین مرتبہ پڑھے پھر اس کے بعد اوپر والی تسبیح دس مرتبہ پڑھے اسی طرح چار رکعت پڑھے اور خیا ل رہے کہ کھڑے ہونے کی حالت میں سورۂ فاتحہ سے پہلے پندرہ مرتبہ اوپر والی تسبیح پڑھے باقی سب جگہ دس دس بار اوپر والی تسبیح پڑھے ہر رکعت میں پچھتّر مرتبہ تسبیح پڑھی جائے گی اور چار رکعتوں میں تسبیح کی گنتی تین سو مرتبہ ہوگی اپنے خیال سے گنتا رہے یا انگلیوں کے اشاروں سے تسبیح کا شمار کرتا رہے۔
(الجامع الترمذی،کتاب الوتر،باب ماجاء فی صلاۃ التسبیح،رقم۴۸۱۔۴۸۲،ج۲،ص۲۴،۲۵)
حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ جب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو کوئی اہم معاملہ پیش آتا تو آپ اس کے لئے دو یا چار رکعت نماز پڑھتے۔
(سنن أبی داؤد،کتاب التطویح،باب وقت قیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم، رقم۱۳۱۹، ج۲،ص۵۲)
حدیث شریف میں ہے کہ پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ اور تین بار آیۃ الکرسی پڑھے باقی تین رکعتوں میں سوره فاتحہ اور
قل ھو اﷲ، قل اعوذ برب الفلق ،قل اعوذ برب الناس
ایک ایک بار پڑھے تو یہ ایسی ہیں جیسے شب قدر میں چار رکعتیں پڑھیں۔ مشائخ فرماتے ہیں کہ ہم نے یہ نماز پڑھی اور ہماری حاجتیں پوری ہوئیں اور ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب کوئی حاجت پیش آجائے تو اچھا وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے پھر تین مرتبہ اس آیت کو پڑھے ۔