مسئلہ:۔قرآن شریف بلند آواز سے پڑھنا افضل ہے جب کہ نمازی یا بیمار یا سونے والے کو تکلیف نہ پہنچے۔
(غنیۃ المتملی،فصل فی سجود السھوہ القرأۃ خارج الصلوۃ،ص۴۹۷)
مسئلہ:۔قرآن شریف کو پیٹھ نہ کی جائے نہ اس کی طرف پاؤں پھیلائیں نہ اس سے اونچی جگہ بیٹھیں نہ اس پر کوئی کتاب رکھیں اگر چہ حدیث وفقہ کی کتاب ہو۔
مسئلہ:۔قرآن شریف اگر بو سیدہ ہوکر پڑھنے کے قابل نہیں رہا تو کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر احتیاط کی جگہ دفن کردیں اور اس کے لئے لحد بنائی جائے تاکہ مٹی اس کے اوپر نہ پڑے قرآن شریف کو جلانا نہیں چاہے بلکہ دفن ہی کرنا چاہے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب الخامس،ج۵،ص۳۲۳)
جب مسجد میں داخل ہو تو درود شریف پڑھ کر
اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ
پڑھے اور جب مسجد سے نکلے تو درود شریف کے بعد
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ
(سنن ابن ماجہ، کتاب المساجدوالجماعات،باب الدعاء عند دخول المسجد، رقم۷۷۲،ج۱،ص۴۲۵)