پڑھنے میں حرج نہیں اور اذاجاء کے بعد قُلْ ھُوَاﷲ پڑھنا نہیں چاہے۔
(الدرالمختار،کتاب الصلاۃ،فصل فی القرأۃ،ج۲،ص۳۲۹،۳۳۰)
مسئلہ:۔جمعہ و عیدین میں پہلی رکعت میں سورۂ جمعہ اور دوسری رکعت میں سورۂ منافقون یا پہلی رکعت میں
(ردالمحتار،کتاب الصلاۃ،مطلب السنۃ تکون سنۃ عین وسنۃ کفایۃ،ج۲،ص۳۲۴)
نماز کے باہر تلاوت کا بیان:۔مستحب یہ ہے کہ باوضو قبلہ رو اچھے کپڑے پہن کر صحیح صحیح حروف ادا کر کے اچھی آواز سے قرآن شریف پڑھے لیکن گانے کے لہجہ میں نہیں کہ گا کر قرآن پڑھنا جائز نہیں تلاوت کے شروع میں اعوذباﷲ پڑھنا مستحب ہے اور سورةکے شروع میں بسم اﷲ پڑھنا سنت ہے درمیان تلاوت میں کوئی دنیاوی کلام یا کام کرے تو اعوذباﷲ و بسم اﷲ پھر پڑھ لے۔
(غنیۃ المستملی،فصل فی سجودالسھو،القرأۃ خارج الصلاۃ،ص۴۹۵)
مسئلہ:۔غسل خانہ اور نجاست کی جگہوں میں قرآن شریف پڑھنا ناجائز ہے۔
(غنیۃ المستملی،فصل فی سجودالسھو،القرأۃ خارج الصلاۃ،ص۴۹۶)
مسئلہ:۔جب قرآن شریف بلند آواز سے پڑھا جائے تو حاضرین پر سننا فرض ہے جب کہ وہ مجمع سننے کی غرض سے حاضر ہو ورنہ ایک کا سننا کافی ہے اگر چہ اور لوگ اپنے اپنے کام میں ہوں۔
(غنیۃ المستملی،فصل فی سجود،القرأۃ خارج الصلاۃ،ص۴۹۷/فتاوی رضویۃ،ج۲۳،ص۳۵۲)
مسئلہ:۔سب لوگ مجمع میں زور سے قرآن شریف پڑھیں یہ ناجائز ہے اکثر عرس و فاتحہ کے موقعوں پر سب لوگ زور زور سے تلاوت کرتے ہیں یہ ناجائز ہے اگر چند آدمی