| جنتی زیور |
قرأت یعنی قرآن شریف پڑھنے میں اتنی آواز ہونی چاہے کہ اگر بہرا نہ ہو اور شور و غل نہ ہو تو خود اپنی آواز سن سکے اگر اتنی آواز بھی نہ ہوئی تو قرأت نہیں ہوئی اور نماز نہ ہوگی۔
(الدرالمختاروردالمحتار،کتاب الصلاۃ،فصل فی القرأۃ،ج۲،ص۳۰۸،۳۰۹)
مسئلہ:۔فجر میں اور مغرب و عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں اور جمعہ و عیدین و تراویح اور رمضان کی وتر میں امام پر جہر کے ساتھ قرأت کرنا واجب ہے اور مغرب کی تیسری رکعت میں اور عشاء کی تیسری اور چوتھی رکعت میں ظہر و عصر کی سب رکعتوں میں آہستہ پڑھنا واجب ہے۔
(الدرالمختار،کتاب الصلاۃ،فصل فی القرأۃ،ج۲،ص۳۰۴،۳۰۶)
مسئلہ:۔جہر کے یہ معنی ہیں کہ اتنی زور سے پڑھے کہ کم سے کم صف میں قریب کے لوگ سن سکیں اور آہستہ پڑھنے کے یہ معنی ہیں کہ کم سے کم خود سن سکے۔
(الدرالمختار،کتاب الصلاۃ،فصل فی القرأۃ،ج۲،ص۳۰۸)
مسئلہ:۔جہری نمازوں میں اکیلے کو اختیار ہے چاہے زور سے پڑھے چاہے آہستہ مگر زور سے پڑھنا افضل ہے۔
(الدرالمختار،کتاب الصلاۃ،فصل فی القرأۃ،ج۲،ص۳۰۶)
مسئلہ:۔قرآن شریف الٹا پڑھنا مکروہ تحریمی ہے مثلاً یہ کہ پہلی رکعت میں قُلْ ھُوَاﷲ اور دوسری رکعت میں تَبَّتْ یَدَا پڑھنا۔
(الدرالمختار،کتاب الصلاۃ،فصل فی القرأۃ،ج۲،ص۳۳۰)
مسئلہ:۔درمیان میں ایک چھوٹی سورت چھوڑ کر پڑھنا مکروہ ہے جیسے پہلی رکعت میں
قُلْ ھُوَ اﷲ
پڑھی اور دوسری رکعت میں
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ
پڑھی اور درمیان