| جنتی زیور |
تینوں صورتوں میں نماز توڑ دینا مستحب ہے۔ مسئلہ:۔سانپ وغیرہ مارنے کے لئے جب کہ کاٹ لینے کا صحیح ڈر ہو تو نماز توڑ دینا جائز ہے۔
(الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الصلاۃ، باب ادراک الفریضۃ، ج۲،ص۶۰۸/ الفتاوی الھندیۃ،کتاب الصلاۃ،الباب السابع،الفصل الثانی ومما یتصل بذالک مسائل،ج۱،ص۱۰۹)
مسئلہ:۔اپنے یا کسی اور کے درہم کے نقصان کا ڈر ہو۔ جیسے دودھ ابل جائے گا یا گوشت ترکاری کے جل جانے کا ڈر ہو تو ان صورتوں میں نماز توڑ دینا جائز ہے اسی طرح ایک درہم کی کوئی چیز چور لے بھاگا تو نماز توڑ کر اس کے پکڑنے کی اجازت ہے۔
(الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الصلاۃ، باب ادراک الفریضۃ، ج۲،ص۶۰۹/ الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ،الباب السابع،الفصل الثانی ومما یتصل بذالک مسائل،ج۱،ص۱۰۹)
مسئلہ:۔نماز پڑھ رہا تھا کہ ریل گاڑی چھوٹ گئی اور سامان ریل گاڑی میں ہے یا ریل گاڑی چھوٹ جانے سے نقصان ہو جائے گا تو نماز توڑ کر ریل گاڑی پر سوار ہو جانا جائز ہے۔ مسئلہ:۔نفل نماز میں ہوا ور ماں باپ پکاریں اوران کو اس کا نماز میں ہونا معلوم نہ ہو تو نماز توڑدے اورجواب دے بعدمیں اس کی نماز قضا ء پڑھ لے ۔
بیمار کی نماز کا بیان
مسئلہ:۔اگر بیماری کی وجہ سے کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا کہ مرض بڑھ جائے گا یا دیر میں اچھا ہوگا یا چکر آتا ہے یا کھڑے ہو کر پڑھنے سے پیشاب کا قطرہ آئے گا یا نا قابل برداشت درد ہوجائے گا تو ان سب صورتوں میں بیٹھ کر نماز پڑھے۔
(الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المریض، ج۲،ص۶۸۱۔۶۸۲)
مسئلہ:۔اگر لاٹھی یا دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوسکتا ہے۔ تو اس پر فرض ہے کہ کھڑے ہو