| جنتی زیور |
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ،الباب السابع، الفصل الثانی فیما یکرہ فی الصلاۃ وما لایکرہ، ج۱،ص۱۰۵،۱۰۸/الدرالمختار،کتا ب الصلاۃ، باب مایفسدالصلاۃ ویکرہ فیھا ،ج۲،ص۴۸۸۔۵۰۳،۵۱۱)
سجدہ گاہ سے کنکریاں اٹھانا مگر جب کہ پورے طور پر سجدہ نہ ہو سکتا ہو تو ایک بار ہٹا دینے کی اجازت ہے' نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنا' نماز کے علاوہ بھی کمر پر ہاتھ نہ رکھنا چاہے' کرتا چادر موجود ہوتے ہوئے صرف پاجامہ یا تہبند پہن کر نماز پڑھنا' الٹا کپڑا پہن کر نماز پڑھنا' نماز میں بلا عذر پالتی مار کر بیٹھنا' کپڑے کو حد سے زیادہ دراز کر کے نماز پڑھنا' مثلاً عمامہ کا شملہ اتنا لمبا رکھے کہ بیٹھنے میں دب جائے یا آستین اتنی لمبی رکھے کہ انگلیاں چھپ جائیں' پاجامہ اور تہبند ٹخنے سے نیچے ہونا' نماز میں دائیں بائیں جھومنا' الٹا قرآن مجید پڑھنا' امام سے پہلے مقتدی کا رکوع و سجدہ میں جانا یا امام سے پہلے سر اٹھانا یہ تمام باتیں مکروہ تحریمی ہیں اگر نماز میں یہ مکروہات ہو جائیں تو اس نماز کو دہرا لینا چاہے۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ،الباب السابع، الفصل الثانی فیما یکرہ فی الصلاۃ وما لایکرہ، ج۱،ص۱۰۶/الدرالمختار،کتا ب الصلاۃ، باب مایفسدالصلاۃ ومایکرہ فیھا ، ج۲،ص۴۹۳،۴۹۶)
مسئلہ:۔نماز میں ٹوپی گر پڑی تو ایک ہاتھ سے اٹھا کر سر پر رکھ لینا بہتر ہے اور بار بار گر پڑتی ہو تو نہ اٹھانا اچھا ہے۔ مسئلہ:۔سستی سے ننگے سر نماز پڑھنا یعنی ٹوپی سے بوجھ معلوم ہوتا ہے یا گرمی لگتی ہے اس وجہ سے ننگے سر نماز پڑھتا ہے تو یہ مکروہ تنزیہی ہے اور اگر نماز کو حقیر خیال کر کے ننگے سر پڑھے جیسے یہ خیال کرے کہ نماز کوئی ایسی شاندار چیز نہیں ہے جس کے لئے ٹوپی یا پگڑی کا اہتمام کیا جائے تو یہ کفر ہے اور اگر خدا کے دربار میں اپنی عاجزی اور انکساری ظاہر کرنے کے لئے ننگے سر نماز پڑھے تو اس نیت سے ننگے سر نماز پڑھنا مستحب ہوگا خلاصہ کلام یہ ہے