کہنا یا اَکْبَارکہنا نماز کو فاسد کر دیتا ہے اسی طرح
پڑھنے سے بھی نماز جاتی رہتی ہے آہ' اوہ' اف' تف' درد یا مصیبت کی وجہ سے کہے یا آواز کے ساتھ روئے اور کچھ حروف پیدا ہوئے تو ان سب صورتوں میں نماز ٹوٹ جائے گی اگر مریض کی زبان سے حالت نماز میں بے اختیار آہ یا اوہ یا ہائے نکل گیا تو نماز نہیں ہوگی اسی طرح چھینک کھانسی یا جمائی اور ڈکار میں جتنے حروف مجبوراً زبان سے نکل جاتے ہیں معاف ہیں اور ان سے نماز نہیں ٹوٹتی دانتوں کے اندر کوئی کھانے کی چیز اٹکی ہوئی تھی نماز پڑھتے ہوئے زبان چلا کر اس کو نکال لیا اور نگل گیا اگر وہ چیز چنے کی مقدار سے کم ہے تو نماز مکروہ ہوگئی اور اگر چنے کے برابر ہے تو نماز ٹوٹ جائے گی نماز پڑھتے ہوئے زور سے قہقہہ لگا کر ہنس دیا تو نماز بھی ٹوٹ گئی اور وضو بھی ٹوٹ گیا پھر سے وضو کرکے نئے سرے سے نماز پڑھے عورت نماز پڑھ رہی تھی بچے نے اس کی چھاتی چوسی اگر دودھ نکل آیا تو نمازجاتی رہی نماز میں کرتا یا پاجامہ پہنا یا تہبند باندھا یا دونوں ہاتھ سے کمر بند باندھا تو نماز ٹوٹ گئی ایک رکن میں تین بار بدن کھجلانے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے تین مرتبہ کھجلانے کا یہ مطلب ہے کہ ایک مرتبہ کھجلایا پھر ہاتھ ہٹا لیا ،پھر کھجلایاپھر ہٹالیا،پھر کھجلایا، یہ تین مرتبہ ہوگیا اور اگر ایک مرتبہ ہاتھ رکھ کر چند مرتبہ ہاتھ کو ہلا کر کھجلایا مگر ہاتھ نہیں ہٹایا اور باربار کھجلاتا رہا تو یہ ایک ہی مرتبہ کھجانا کہا جائے گا۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃوما کرہ فیھا،ج۱،ص۹۸،۱۰۴)
نمازی کے آگے سے گزرنا نماز کو فاسد نہیں کرتا خواہ گزرنے والا مرد ہو یا عورت لیکن نمازی کے آگے سے گزرنے والا سخت گنہگار ہوتا ہے حدیث میں ہے کہ نمازی کے