Brailvi Books

جنتی زیور
289 - 676
مسئلہ:۔اگر قصداً کسی واجب کو چھوڑ دیا تو سجدۂ سہو کافی نہیں بلکہ نماز کو دہرانا واجب ہے۔
   (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو،ج۲،ص۶۵۵)
مسئلہ:۔جو باتیں نماز میں فرض ہیں اگر ان میں سے کوئی بات چھوٹ گئی تو نماز ہوگی ہی نہیں اور سجدۂ سہو سے بھی یہ کمی پوری نہیں ہو سکتی بلکہ پھر سے اس نماز کو پڑھنا ضروری ہے۔ 

مسئلہ:۔ایک نماز میں اگر بھول سے کئی واجب چھوٹ گئے تو ایک مرتبہ وہی دو سجدے سہو کے سب کے لئے کافی ہیں چند بار سجدۂ سہو کی ضرورت نہیں۔
        (ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو،ج۲،ص۶۵۵)
مسئلہ:۔پہلے قعدہ میں التحیات پڑھنے کے بعد تیسری رکعت کے لئے کھڑے ہونے میں اتنی دیر لگا دی کہ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ
پڑھ سکے تو سجدۂ سہو واجب ہے چاہے کچھ پڑھے یا خاموش رہے دونوں صورتوں میں سجدۂ سہو واجب ہے اس لئے دھیان رکھو کہ پہلے قعدہ میں التحیات ختم ہوتے ہی فوراً  تیسری رکعت کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔
        (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو،ج۲،ص۶۵۷)
نماز فاسد کرنے والی چیزیں
    نماز میں بولنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے چاہے جان بوجھ کر بولے یا بھول کر بولے' زیادہ بولے یا ایک ہی بات بولے' اپنی خوشی سے بولے یا کسی کے مجبور کرنے سے بولے بہر صورت نماز ٹوٹ جائے گی اسی طرح زبان سے کسی کو سلام کرے' عمداً ہو یا سہواً' نمازجاتی رہے گی یوں ہی سلام کا جواب دینا بھی نماز کو فاسد کر دیتا ہے۔ کسی کو چھینک کے جواب میں
یرحمک اﷲ
کہا یا خوشی کی خبر سن کر الحمد لِلّٰہ کہا یا بری خبر سن کر
اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا إلَیْہِ رَاجِعُوْنَ O
کہا تو ان صورتوں میں نماز ٹوٹ جائے گی لیکن اگر خود نماز پڑھنے والے کو چھینک آئی تو حکم ہے کہ وہ چپ رہے لیکن اس نے
الحمدﷲ
کہہ دیا تو اس کی نماز فاسد نہیں
Flag Counter