| جنتی زیور |
(۴) دارالعلوم شاہ عالم احمد آباد گجرات میں بعہدۂ شیخ الحدیث تین سال۔
(۵) دارالعلوم صمدیہ علاقہ بمبئی میں بعہدۂ شیخ الحدیث تین سال۔
(۶) مدرسہ مسکینیہ دھوراجی کاٹھیاواڑ میں بعہدۂ شیخ الحدیث تین سال۔
(۷) مدرسہ منظر حق ٹانڈہ ضلع فیض آبادمیں بعہدۂ شیخ الحدیث گیارہ سال۔
(۸)دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف میں بعہدۂ شیخ الحدیث سات سال۔
بحمدہ تعالیٰ ان درس گاہوں میں تقریباً تین سو سے زائد طلبہ آپ کے درس سے فارغ التحصیل ودستار بند ہو کر ہندوستان و پاکستان ،بنگلہ دیش ،انگلینڈاور افریقہ میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔سفر حج اور آپ کے مشائخ حرمین: ۱۹شوال المکرم ۱۳۷۸ھ میں حرمین شریفین روانہ ہوئے ۔مکہ مکرمہ میں حضرت مفتی محمد سعد اللہ المکی نے صحاح ستہ ودلائل الخیرات شریف و حزب البحر کی اجازت دے کر سندیں عطا فرمائیں اور مفتی المالکیہ مولاناسید علوی عباس مکی نے صحاح ستہ کی سند عطا فرمائی اور حضرت شیخ الحرم مولانا محمد ابن العربی الجزائری علیہ الرحمۃ نے بخاری اور مؤطاشریف کی سند خاص سے سرفراز فرمایااور مدینہ منورہ میں شیخ الدلائل حضرت علامہ یوسف بن محمدبن علی باشبلی حریری مدنی نے اپنی سند خاص کے ساتھ دلائل الخیرات شریف کی اجازت عطافرمائی۔
وعظ و تقریر: آپ ایک بلند پایہ مقرر تھے۔ وعظ و تقریر کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ زبان میں شیرینی،روانی اور تاثیر تھی۔ملک کے طول وعرض میں آپ کے بیانات کی دھوم مچی ہوئی تھی۔ تصانیف: آپ کی خاص خاص تصانیف جو بحمدہٖ تعالیٰ طبع ہو کر ملک و بیرون ملک