(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ ، الباب الثامن فی صلاۃ الوتر،ج۱،ص۱۱۱)
مسئلہ:۔دعائے قنوت ہر شخص چاہے امام ہو یا مقتدی یا اکیلا ہمیشہ پڑھے ادا ہو یا قضا رمضان ہو یا دوسرے دنوں میں۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ ، الباب الثامن فی صلاۃ الوتر،ج۱،ص۱۱۱)
مسئلہ:۔وتر کے سوا کسی اور نماز میں دعائے قنوت نہ پڑھے ہاں البتہ اگر مسلمانوں پر کوئی بڑا حادثہ واقع ہو تو فجر کی دوسری رکعت میں رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھ سکتے ہیں اس کو قنوت نازلہ کہتے ہیں۔
(الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب الوتروالنوافل،ج۲،ص۵۴۱)
جو نماز میں چیزیں واجب ہیں اگر ان میں سے کوئی واجب بھول سے چھوٹ جائے تو اس کی کمی کو پورا کرنے کے لئے سجدۂ سہو واجب ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ نماز کے آخر میں التحیات پڑھنے کے بعد داہنی طرف سلام پھیرنے کے بعد دومرتبہ سجدہ کرے اور پھر التحیات اور درود شریف اور دعا پڑھ کر دونوں طرف سلام پھیر دے۔
(الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو،ج۲،ص۶۵۱۔۶۵۳)