Brailvi Books

جنتی زیور
285 - 676
مسئلہ:۔جمعہ و عیدین میں جماعت شرط ہے یعنی بغیر جماعت یہ نمازیں ہوں گی ہی نہیں تراویح میں جماعت سنت کفایہ ہے یعنی محلّہ کے کچھ لوگوں نے جماعت سے پڑھی تو سب کے ذمہ سے جماعت چھوڑنے کی برائی جاتی رہی اور اگر سب نے جماعت چھوڑی تو سب نے برا کیا رمضان شریف میں وتر کو جماعت سے پڑھنا یہ مستحب ہے سنتوں اور نفلوں میں جماعت مکروہ ہے۔
        (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، ج۲،ص۳۴۱۔۳۴۲)
مسئلہ:۔جن عذروں کی وجہ سے جماعت چھوڑدینے میں گناہ نہیں وہ یہ ہیں۔ (۱)ایسی بیماری کہ مسجد تک جانے میں مشقت اور دشواری ہو(۲)سخت بارش (۳)بہت زیادہ کیچڑ(۴)سخت سردی (۵)سخت اندھیری رات (۶)آندھی (۷)پاخانہ پیشاب کی حاجت(۸)ریاح کا بہت زور ہونا (۹)ظالم کا خوف (۱۰)قافلہ چھوٹ جانے کا خوف(۱۱)اندھا ہونا (۱۲)اپاہج ہونا (۱۳)اتنا بوڑھا ہونا کہ مسجد تک جانے سے مجبور ہو(۱۴)مال و سامان یا کھانا ہلاک ہوجانے کا ڈر (۱۵)مفلس کو قرض خواہ کا ڈر(۱۶) بیمار کی دیکھ بھال کہ اگر یہ چلا جائے گا تو بیمار کو تکلیف ہوگی یا وہ گھبرائے گا یہ سب جماعت چھوڑنے کے عذر ہیں۔
        (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، ج۲،ص۳۴۷۔۳۴۹)
مسئلہ:۔عورتوں کو کسی نماز میں جماعت کی حاضری جائز نہیں دن کی نماز ہو یا رات کی جمعہ کی ہو یا عیدین کی عورت چاہے جو ان ہو یا بڑھیا یوں بھی عورتوں کو ایسے مجمعوں میں جانا بھی ناجائز ہے جہاں عورتوں اورمردوں کا اجتماع ہو۔
   (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، ج۲،ص۳۶۷)
مسئلہ:۔اکیلا مقتدی چاہے لڑکا ہو امام کے برابر دہنی طرف کھڑا ہو' بائیں طرف یا پیچھے کھڑا ہونا مکروہ ہے دو مقتدی ہوں تو پیچھے کھڑے ہوں امام کے برابر کھڑا ہونا مکروہ تنزیہی
Flag Counter