مسئلہ:۔امام ہونے کا سب سے زیادہ حقدار وہ شخص ہے جو نماز و طہارت وغیرہ کے احکام سب سے زیادہ جاننے والا ہے' پھر وہ شخص جو قرأت کا علم زیادہ رکھتا ہو۔ اگر کئی شخص ان باتوں میں برابر ہوں تو وہ شخص زیادہ حقدار ہے جو زیادہ متقی ہو۔ اگر اس میں بھی برابر ہوں تو زیادہ عمر والا۔ پھر جس کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں۔ پھر زیادہ تہجد گزار۔ غرض کہ چند آدمی برابر درجے کے ہوں تو ان میں جو شرعی حیثیت سے فوقیت رکھتا ہو وہی زیادہ حق دار ہے۔
(الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، ج۲،ص۳۵۰۔۳۵۲)
مسئلہ:۔فاسق معلن جیسے شرابی' زناکار' جواری' سود خور' داڑھی منڈانے والا یا کٹا کر ایک مشت سے کم رکھنے والا ان لوگوں کو امام بنانا گناہ ہے اور ان لوگوں کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے اور نماز کو دہرانا واجب ہے۔
(الدرالمختاروردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ،مطلب فی تکرار الجماعۃ فی المسجد، ج۲،ص۳۵۵۔۳۶۰)
مسئلہ:۔رافضی' خارجی' وہابی اور دوسرے تمام بدمذہبوں کے پیچھے نماز پڑھنا ناجائز و گناہ ہے اگر غلطی سے پڑھ لی تو پھر سے پڑھے اگر دوبارہ نہیں پڑھے گا تو گناہگار ہوگا۔
(ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، مطلب البدعۃ خمسۃ اقسام، ج۲،ص۳۵۷۔۳۵۸)