| جنتی زیور |
کرے کیونکہ جو فضائل ان دعاؤں کے ہیں وہ انہیں عددوں کے ساتھ مخصوص ہیں ان میں کمی بیشی کی مثال یہ ہے کہ کوئی تالا کسی خاص قسم کی کنجی سے کھلتا ہے تو اگر اس کنجی کے دندانے کچھ کم یا زائد کردیں تو اس سے وہ تالا نہ کھلے گا البتہ اگر گنتی شمار کرنے میں شک ہو تو زیادہ کر سکتا ہے اور یہ زیادہ کرنا گنتی بڑھانے کے لئے نہیں ہے بلکہ گنتی کو یقینی طور پر پوری کرنے کے لئے ہے ۔ ایک مسنون وظیفہ:۔ہرنماز کے بعد تین مرتبہ استغفار اور ایک مرتبہ آیۃ الکرسی اور ایک ایک بار
قُل ھُوَ اﷲ
اور
قُلْ اَعُوْذُبِرَبِّ الْفَلَقِ
اور
قُلْ اَعُوْذُبِرَبِّ النَّاسِ
پڑھے اور
سبحان اﷲ
۳۳ مرتبہ
الحمدﷲ
۳۳ مرتبہ
اﷲاکبر
۳۴ مرتبہ اور
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِ یْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْیئٍ قَدِیْرٌ ؕ
ایک بار پڑھ لے تو اسکے گناہ بخش دیے جائیں گے اگر چہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں اور وہ نامراد نہیں رہے گا۔
جماعت و امامت کا بیان
جماعت کی بہت تاکید ہے اور اس کا ثواب بہت زیادہ ہے یہاں تک کہ بے جماعت کی نماز سے جماعت والی نماز کا ثواب ستائیس گنا ہے ۔
(صحیح مسلم ، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، باب فضل صلاۃ الجماعۃوبیان التشدیدفی التخلف عنھا،رقم ۶۵۰،ص۳۲۶)
مسئلہ:۔مردوں کو جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے بلا عذر ایک بار بھی جماعت چھوڑنے والا گنہگار اور سزا کے لائق ہے اور جماعت چھوڑنے کی عادت ڈالنے والا فاسق ہے جس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی اور بادشاہ اسلام اس کو سخت سزا دے گا اور اگر پڑوسیوں نے سکوت کیا تو وہ بھی گنہگار ہوں گے۔
(الدرالمختاروردالمحتار، کتاب الصلاۃ ،باب الامامۃ، مطلب شروط الامامۃ الکبری، ج۲،ص۳۴۰۔۳۴۱)