Brailvi Books

جنتی زیور
269 - 676
اور اگر نماز میں بلا قصد و ارادہ قبلہ سے سینہ پھر گیا اور فوراً  ہی اس نے قبلہ کی طرف سینہ کر لیا تو اس کی نماز ہوگئی۔
(البحرالرائق،کتاب الصلوۃ،باب شروط الصلوۃ،ج۱،ص۴۹۷)
مسئلہ:۔اگر صرف منہ قبلہ سے پھیر لیا اور سینہ قبلہ سے نہیں پھرا تو اس پر واجب ہے کہ فوراً  ہی وہ قبلہ کی طرف منہ کرے اس کی نماز ہو جائے گی مگر بلا عذر ایک سیکنڈ کیلئے بھی قبلہ سے چہرہ پھیر لینا مکروہ ہے۔
    (صغیری شرح منیۃ المصلی،شرائط الصلاۃ، الشرط الرابع،ص۱۲۶)
مسئلہ:۔اگر نمازی نے قبلہ سے سینہ پھیرا نہ چہرہ پھیرا بلکہ صرف آنکھوں کو پھرا پھراکر ادھر ادھر دیکھ لیا تو اس کی نماز ہو جائے گی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے۔
(بہارشریعت،ح۳،ص۵۲)
رکعتوں کی تعداد اور نیت کرنے کا طریقہ
نیت سے مراد دل میں پکا ارادہ کرنا ہے خالی خیال کافی نہیں جب تک کہ ارادہ نہ ہو۔

مسئلہ:۔اگر زبان سے بھی کہہ دے تو اچھا ہے۔ مثلاً یوں کہے کہ نیت کی میں نے دو رکعت فرض فجر کی' واسطے اﷲتعالیٰ کے 'منہ میرا طرف کعبہ شریف کے اﷲاکبر۔
    (الفتاوی الھندیۃ، الباب الثالث، الفصل الرابع فی النیۃ، ج۱،ص۶۵)
مسئلہ:۔مقتدی ہو تو نیت میں اس کو اتنا اور کہنا چاہے کہ پیچھے اس امام کے۔
    (الفتاوی الھندیۃ، الباب الثالث، الفصل الرابع فی النیۃ، ج۱،ص۶۶)
مسئلہ:۔امام نے امام ہونے کی نیت نہیں کی جب بھی مقتدیوں کی نماز اس کے پیچھے ہو جائے گی لیکن جماعت کا ثواب نہ پائے گا۔
    (الفتاوی الھندیۃ، الباب الثالث، الفصل الرابع فی النیۃ، ج۱،ص۶۶)
Flag Counter