Brailvi Books

جنتی زیور
268 - 676
بھی ضرورت نہیں۔
(الفتاوی الھندیۃ ، الباب الثالث، الفصل الثالث فی استقبال القبلۃ،ج۱،ص۶۳)
مسئلہ:۔چلتی ہوئی کشتی میں اگر نماز پڑھے تو تکبیر تحریمہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز شروع کردے اور جیسے جیسے کشتی گھومتی جائے خود بھی قبلہ کی طرف منہ پھیرتا رہے اگرچہ فرض نماز ہو یا نفل۔
           (غنیۃ المستملی،فروع فی شرح الطحاوی،ص۲۲۵)
مسئلہ:۔اگر یہ نہ معلوم ہو کہ قبلہ کدھر ہے اور وہاں کوئی بتانے والا بھی نہ ہو تو نمازی کو چاہے کہ اپنے دل میں سوچے اور جدھر قبلہ ہونے پر دل جم جائے اسی طرف منہ کرکے نماز پڑھ لے۔ اس کے حق میں وہی قبلہ ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ ، الباب الثالث، الفصل الثالث فی استقبال القبلۃ،ج۱،ص۶۴)
مسئلہ:۔جس طرف دل جم گیا تھا ادھر منہ کر کے نماز پڑھ رہا تھا پھر نماز کے درمیان ہی میں اس کی یہ رائے بدل گئی کہ قبلہ دوسری طرف ہے یا اس کو اپنی غلطی معلوم ہوگئی تو اس پر فرض ہے کہ فوراً ہی اس طرف گھوم جائے اور پہلے جتنی رکعتیں پڑھ چکا ہے اس میں کوئی خرابی نہیں آئے گی اسی طرح اگر نماز میں اس کو چاروں طرف بھی گھومنا پڑا پھر بھی اس کی نماز ہو جائے گی۔ اور اگر رائے بدلتے ہی یا غلطی ظاہر ہوتے ہی دوسری طرف نہیں گھوما۔ اور تین مرتبہ سبحان اﷲ کہنے کے برابر دیر لگادی تو اس کی نماز نہ ہوگی۔
(ردالمحتار مع الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، مطلب مسائل التحری فی القبلۃ،ج۲،ص۱۴۴)
مسئلہ:۔نمازی نے اگر بلا عذر قصداً جان بوجھ کر قبلہ سے سینہ پھیر دیا تو اگرچہ فوراً  ہی اس نے قبلہ کی طرف سینہ پھرا لیا پھر بھی اس کی نماز ٹوٹ گئی اور وہ پھر سے نماز پڑھے۔
    (صغیری شرح منیۃ المصلی،شرائط الصلاۃ، الشرط الرابع،ص۱۲۵)
Flag Counter