Brailvi Books

جنتی زیور
267 - 676
    آج کل اکثر جگہ یہ غلط رواج ہے کہ۔ اقامت کے وقت بلکہ اقامت سے پہلے ہی لوگ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ بلکہ اکثر جگہ تو یہ ہے کہ جب تک امام کھڑا نہ ہو جائے اس وقت تک اقامت نہیں کہی جاتی۔ یہ طریقہ خلاف سنت ہے۔ اس بارے میں بہت سے رسالے اور فتاویٰ بھی چھاپے گئے مگر ضد اور ہٹ دھرمی کا کیا علاج؟ خدا وند کریم مسلمانوں کو سنت پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔

مسئلہ:۔اقامت کا جواب دینا مستحب ہے۔ اقامت کا جواب بھی اذان ہی کے جواب کی طرح ہے۔ اتنا فرق ہے کہ اقامت میں
قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃُ
کے جواب میں
اَقَامَھَااللہُ وَاَدَا مَھَا مَادَامَتِ السَّمٰوَاتُ وَالْاَرضُ
کہے۔
    (الفتاوی الھندیۃ ،کتاب الصلوۃ، الباب الثانی، الفصل الثانی ،ج۱،ص۵۷)
استقبال قبلہ کے چند مسائل
    پوری نماز میں خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنا نماز کی شرط اور ضروری حکم ہے۔ لیکن چند صورتوں میں اگر قبلہ کی طرف منہ نہ کرے پھر بھی نماز جائز ہے۔ مثلاً

مسئلہ:۔جو شخص دریا میں کسی تختہ پر بہا جا رہا ہو اور اسے صحیح اندیشہ ہو کہ منہ پھیرنے سے ڈوب جائے گا اس طرح کی مجبوری سے وہ قبلہ کی طرف منہ نہیں کر سکتا۔ تو اس کو چاہے کہ وہ جس رخ بھی نماز پڑھ سکتا ہے پڑھ لے۔ اس کی نماز ہو جائے گی۔ اور بعد میں اس نماز کو دہرانے کی بھی ضرورت نہیں۔
(الفتاوی الھندیۃ ، الباب الثالث، الفصل الثالث فی استقبال القبلۃ،ج۱،ص۶۳)
مسئلہ:۔بیمار میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ قبلہ کی طرف منہ کر سکے اور وہاں دوسرا ایسا کوئی آدمی بھی نہیں ہے جو کعبہ کی طرف اس کا منہ کر دے تو اس مجبوری کی حالت میں جس طرف بھی منہ کر کے نماز پڑھ لے گا اس کی نماز ہوجائے گی اور اس نماز کو بعدمیں دہرانے کی
Flag Counter