| جنتی زیور |
(۲)اقامت شروع ہونے سے جماعت ختم ہونے تک کوئی سنت و نفل پڑھنی مکروہ تحریمی ہے۔ ہاں البتہ اگر نماز فجر کی اقامت ہونے لگی اور اس کو معلوم ہے کہ سنت پڑھے گا۔ جب بھی جماعت مل جائے گی۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الاول، الفصل الثالث،ج۱،ص۵۳)
اگر چہ قعدہ ہی سہی تو اس کو چاہے کہ صفوں سے کچھ دور ہٹ کر فجر کی سنت پڑھ لے۔ اور پھر جماعت میں شامل ہو جائے اور اگر وہ یہ جانتا ہے کہ سنت پڑھے گا تو جماعت نہیں ملے گی تو اس کو سنت پڑھنے کی اجازت نہیں بلکہ اس کو چاہیئے کہ بغیر سنت پڑھے جماعت میں شامل ہوجائے۔ فجر کی نماز کے علاوہ دوسری نمازوں میں اقامت ہوجانے کے بعد اگرچہ یہ جان لے کہ سنت پڑھنے کے بعد بھی جماعت مل جائے گی پھر بھی سنت پڑھنے کی اجازت نہیں بلکہ سنت پڑھے بغیر فوراً ہی جماعت میں شامل ہو جانا ضروری ہے۔
(بہارشریعت،ج۱،ح۴،ص۱۳)
(۳)نماز عصر پڑھ لینے کے بعد سورج ڈوبنے تک کو ئی نفل نماز پڑھنی مکروہ ہے۔ قضا نمازیں سورج ڈوبنے سے بیس منٹ پہلے تک پڑھ سکتا ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الاول، الفصل الثالث،ج۱،ص۵۳)
(۴)سورج ڈوبنے کے بعد اور مغرب کے فرض پڑھنے سے پہلے کوئی نفل جائز نہیں۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الاول، الفصل الثالث،ج۱،ص۵۳)
(۵)جس وقت امام اپنی جگہ سے جمعہ کے خطبہ کے لئے کھڑا ہوا اس وقت سے لے کر نماز جمعہ ختم ہونے تک کوئی نماز سنت و نفل وغیرہ جائز نہیں۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الاول، الفصل الثالث،ج۱،ص۵۳)