| جنتی زیور |
(۶)عین خطبہ کے درمیان کوئی نماز سنت و نفل وغیرہ جائز نہیں۔ چاہے جمعہ کا خطبہ ہو یا عیدین کا یا گرہن کی نماز کا یا نماز استسقاء کا یا نکاح کا۔ لیکن ہاں صاحب ترتیب کے لئے جمعہ کے خطبہ کے دوران بھی قضا نماز پڑھ لینا لازم ہے۔ (۷)عید کی نماز سے پہلے نفل نماز مکروہ ہے چاہے گھر میں پڑھے' یا مسجد میں یا عیدگاہ میں۔ (۸)عیدین کی نماز کے بعد بھی عید گاہ یا مسجد میں نماز نفل پڑھنی مکروہ ہے۔ ہاں اگر گھر میں نفل پڑھے تو یہ مکروہ نہیں۔ (۹)میدان عرفات میں ظہر و عصر ایک ساتھ پڑھتے ہیں ان دونوں نمازوں کے درمیان میں اور بعد میں نفل و سنت مکروہ ہے۔ (۱۰)مزدلفہ میں جو مغرب و عشاء ایک ساتھ پڑھتے ہیں ان دونوں نمازوں کے بیچ میں نفل و سنت پڑھنی مکروہ ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الاول، الفصل الثالث،ج۱،ص۵۳)
دونوں نمازوں کے بعد اگر نفل و سنت پڑھے تو مکروہ نہیں ہے۔ (۱۱)نماز فرض کا وقت اگر تنگ ہو گیا ہو تو ہر نماز یہاں تک کہ فجر و ظہر کی سنتیں پڑھنی بھی مکروہ ہیں۔ جلدی جلدی فرض پڑھ لے تاکہ نماز قضا نہ ہونے پائے۔ (۱۲)جس بات سے دل بٹے اور اس کو دور کر سکتا ہو۔ تو اسے دور کئے بغیر ہر نماز مکروہ ہے مثلاً پاخانہ' پیشاب یا ریح کا غلبہ ہو تو ایسی حالت میں نماز مکروہ ہے یوں ہی کھانا سامنے آگیا اور بھوک لگی ہو۔ یا دوسری کوئی بات ایسی ہو جس سے دل کو اطمینان نہ ہو تو ایسی صورت میں نماز پڑھنی مکروہ ہے۔ البتہ اگر وقت جارہا ہو تو ایسی حالت میں بھی نماز پڑھ لے تاکہ قضا نہ ہو جائے لیکن پھر اس نماز کو دہرالے۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الاول، الفصل الثالث،ج۱،ص۵۳)