Brailvi Books

جنتی زیور
259 - 676
مسئلہ:۔اگر ان تینوں وقتوں میں جنازہ لایا گیا تو اسی وقت پڑھیں کوئی کراہت نہیں۔ کراہت اس صورت میں ہے کہ جنازہ ان وقتوں سے پہلے لایاگیا مگر نماز جنازہ پڑھنے میں اتنی دیر کر دی کہ مکروہ وقت آگیا۔
 (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الاول،الفصل الثالث فی بیان الاوقات لاتجوز فیھا الصلاۃ وتکرہ فیھا، ج۱،ص۵۲)
مسئلہ:۔جب سورج کا کنارا ظاہر ہو اس وقت سے لے کر تقریباً بیس منٹ تک کوئی نماز جائز نہیں۔ سورج نکلنے کے بیس منٹ بعد جب سورج ایک لاٹھی کے برابر اونچا ہو جائے اس کے بعد ہر نماز چاہے نفل ہو یا قضا یا کوئی دوسری پڑھنی چاہے۔
 (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الاول،الفصل الثالث فی بیان الاوقات التی لاتجوز فیھا الصلاۃ وتکرہ فیھا، ج۱،ص۵۲)
مسئلہ:۔جب سورج ڈوبنے سے پہلے پیلا پڑ جائے تو اس وقت سے سورج ڈوبنے تک کوئی نماز جائز نہیں۔ ہاں اگر اس دن کی عصر ابھی تک نہیں پڑھی تو اس کو پڑھ لے۔ نماز عصر ادا ہو جائے گی اگرچہ مکروہ ہوگی۔
 (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الاول،الفصل الثالث فی بیان الاوقات التی لاتجوز فیھا الصلاۃ وتکرہ فیھا، ج۱،ص۵۲)
مسئلہ:۔ٹھیک دوپہر میں کوئی نماز جائز نہیں۔
    (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الاول،الفصل الثالث،ج۱،ص۵۲)
مسئلہ:۔بارہ وقتوں میں نفل اور سنت نمازیں پڑھنے کی مما نعت ہے وہ بارہ وقت یہ ہیں ۔

(۱)صبح صادق سے سورج نکلنے تک فجر کی دو رکعت سنت اور دو رکعت فرض کے سوا دوسری کوئی نماز پڑھنی منع ہے۔
 (بہار شریعت،ج۱،ح۳،ص۲۲، والفتاوی الھندیۃ ، کتاب الصلاۃ، الباب الاول، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۲)
Flag Counter