Brailvi Books

جنتی زیور
258 - 676
عشاء کا وقت:۔شفق کی سپیدی غائب ہونے کے بعد سے صبح صادق کی سپیدی ظاہر ہونے تک ہے لیکن عشاء میں تہائی رات تک تاخیر کرنی مستحب ہے اور آدھی رات تک مباح ہے۔ اور آدھی رات کے بعد عشاء کی نماز پڑھنی مکروہ ہے۔
                (البحرالرائق،کتاب الصلوۃ،ج۱،ص۴۳۰)
نماز و تر کا وقت:۔وہی ہے جو نماز عشاء کا وقت ہے لیکن عشاء پڑھنے سے پہلے وتر نہیں پڑھے جاسکتے کیونکہ عشاء اور وتر میں ترتیب فرض ہے یعنی ضروری ہے کہ پہلے عشاء پڑھ لی جائے اس کے بعد وتر پڑھی جائیں۔ اگر کسی نے قصداً عشاء کی نماز سے پہلے وترپڑھ لئے تو وتر ادا نہیں ہوں گے۔ بلکہ عشاء پڑھنے کے بعد پھر وتر پڑھنے پڑیں گے۔ ہاں اگر بھول کر وتر عشاء سے پہلے پڑھ لئے۔ یا بعد کو معلوم ہوا کہ عشاء بغیر وضو کے پڑھی تھی اور وتر وضو کے ساتھ پڑھے تو وہ وضو کر کے عشاء کی نماز پڑھے۔ لیکن وتر جو پہلے پڑھ لئے ہیں وہ ادا ہو گئے اس کو دہرانا ضروری نہیں۔
 (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الاول،الفصل الاول فی اوقات الصلوٰۃ، ج۱،ص۵۱۔۵۳)
مکروہ وقتوں کا بیان
مسئلہ:۔سورج نکلتے وقت' سورج ڈوبتے وقت اور ٹھیک دوپہر کے وقت کوئی نماز پڑھنی جائز نہیں۔ لیکن اس دن کی عصر اگر نہیں پڑھی ہے تو سورج ڈوبنے کے وقت پڑھ لے۔ مگر عصر میں اتنی دیر کر کے نماز پڑھنی سخت گناہ ہے۔
 (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الاول،الفصل الثالث فی بیان الاوقات لاتجوز فیھا الصلاۃ وتکرہ فیھا، ج۱،ص۵۲)
مسئلہ:۔ان تینوں وقتوں میں قرآن مجید کی تلاوت بہتر نہیں ہے۔ اچھا یہ ہے کہ ان تینوں وقتوں میں کلمہ' یا تسبیح یا درود شریف وغیرہ پڑھنے میں مشغول رہے۔
 (الدرالمختار مع ردالمحتار، کتاب الصلٰوۃ، مطلب بشرط العلم بدخول الوقت،ج۲،ص۴۴)
Flag Counter