Brailvi Books

جنتی زیور
257 - 676
ظہر کا وقت نکل گیا اور عصر کا وقت شروع ہو گیا۔
 (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الاول،الفصل الاول فی اوقات الصلوٰۃ، ج۱،ص۵۱)
    جمعہ کا وقت وہی ہے جو ظہر کا وقت ہے۔
     (البحر الرائق،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجمعۃ،ج۲،ص۲۵۶)
عصر کا وقت:۔ظہر کا وقت ختم ہوتے ہی عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے اور سورج ڈوبنے تک رہتا ہے۔
 (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الاول،الفصل الاول فی اوقات الصلوٰۃ، ج۱،ص۵۱)
جاڑوں میں عصر کا وقت تقریباً ڈیڑھ گھنٹے لمبا رہتا ہے اور گرمیوں میں قریب قریب دو گھنٹے (کچھ کم زیادہ مختلف تاریخوں میں) رہتا ہے' عصر کی نماز میں ہمیشہ تاخیر مستحب ہے۔ لیکن نہ اتنی تاخیر کہ سورج کی ٹکیا میں زردی آجائے۔
    (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الصلوۃ،الباب الاول،الفصل الثانی،ج۱،ص۵۲)
مغرب کا وقت:۔سورج ڈوبنے کے بعد سے مغرب کا وقت شروع ہو جاتا ہے اور شفق غائب ہونے تک رہتا ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الاول،الفصل الاول فی اوقات الصلوٰۃ، ج۱،ص۵۱)
     شفق سے مراد وہ سپیدی ہے جو سورج ڈوبنے کی سرخی کے بعد پچھم میں صبح صادق کی سپیدی کی طرح اتر دکھن میں پھیلی رہتی ہے مغرب کے وقت کی لمبائی ہمارے دیار میں کم سے کم سوا گھنٹہ اور زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ گھنٹہ تقریباً ہوا کرتی ہے۔ اور ہر روز جتنا لمبا فجر کا وقت ہوتا ہے اتنا ہی لمبا مغرب کا وقت بھی ہوتا ہے۔
    (شرح وقایہ،کتاب الصلوۃ،باب اوقات الصلوات الخمس،ج۱،ص۱۴۷)
کہے تو نماز شروع کر سکتا ہے مگر بہتر یہ ہے کہ اقامت پوری ہو جانے پر نماز شروع کرے(۱۳)دونوں پنجوں کے درمیان چار انگل کا فاصلہ ہونا (۱۴)مقتدی کو امام کے ساتھ شروع کرنا (۱۵)سجدہ زمین پر بلا کچھ بچھائے ہوئے کرنا۔
Flag Counter