Brailvi Books

جنتی زیور
256 - 676
چاہیں فجر کی نماز پڑھ لیں۔ لیکن مستحب یہ ہے کہ فجر کی نماز اتنا اجالا ہو جانے کے بعد پڑھیں کہ مسجد کے نمازی ایک دوسرے کو دیکھ کر پہچان لیں۔ صبح صادق ایک روشنی ہے جو سورج نکلنے سے پہلے آسمان کے پوربی کناروں میں ظاہر ہوتی ہیں۔ یہاں تک کہ رفتہ رفتہ یہ روشنی پورے آسمان پر پھیل جاتی ہے اور اجالا ہو جاتا ہے۔ صبح صادق کی روشنی ظاہر ہوتے ہی سحری کا وقت ختم نماز فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ صبح صادق جاڑوں میں تقریباً سوا گھنٹہ اور گرمیوں میں لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹہ سورج نکلنے سے پہلے ظاہر ہوتی ہے ۔
 (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الاول،الفصل الاول فی اوقات الصلوٰۃ، ج۱،ص۵۱)
ظہر کا وقت:۔سورج ڈھلنے کے بعد شروع ہوتا ہے اور ٹھیک دوپہر کیوقت کسی چیز کا جتنا سا یہ ہو تا ہے اس سایہ کے علاوہ اس چیز کا سایہ دوگنا ہو جائے تو ظہر کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔ ظہر کے وقت میں مستحب یہ ہے کہ جاڑوں میں اول وقت اور گرمیوں میں دیر کر کے نماز ظہر پڑھیں۔
 (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الاول،الفصل الاول فی اوقات الصلوٰۃ، ج۱،ص۵۱)
فائدہ:۔سورج ڈھلنے اور دوپہر کے سایہ کے علاوہ سایہ دوگنا ہونے کی پہچان یہ ہے کہ برابر زمین پر ایک ہموار لکڑی بالکل سیدھی گاڑ دیں کہ پورب پچھم یا اتر دکھن کو ذرا بھی جھکی نہ ہو۔ اب خیال رکھو کہ جتنا سورج اونچا ہوتا جائے اس لکڑی کا سایہ کم اور چھوٹا ہوتا جائے گا۔ جب سایہ کم ہونا رک جائے تو سمجھ لو کہ ٹھیک دوپہر ہو گئی اوراس وقت میں اس لکڑی کا جتنا بڑاسایہ ہو اس کو ناپ کر دھیان میں رکھو۔ اس کے بعد جوں ہی سایہ بڑھنے لگے تو سمجھ لو کہ سورج ڈھل گیا اور ظہر کا وقت شروع ہو گیا اور جب سایہ بڑھتے بڑھتے اتنا بڑا ہوجائے کہ دوپہر والے سایہ کو نکال کر اس لکڑی کا سایہ اس لکڑی سے دوگنا بڑا ہو جائے تو سمجھ لو کہ
Flag Counter