| جنتی زیور |
مسئلہ:۔جب کوئی شخص شریعت میں معذور مان لیا گیا تو جب تک ہر نماز کے وقت ایک بار بھی اس کا عذر پایا جاتا رہے گا وہ معذور ہی رہے گا جب اس کو اتنی شفا حاصل ہو جائے کہ ایک نماز کا پورا وقت گزر جائے اور اس کو ایک مرتبہ بھی قطرہ وغیرہ نہ آئے تو اب یہ شخص معذور نہیں مانا جائے گا۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ، الباب السادس،ومما یتصل بذلک احکام المعذور، ج۱،ص۴۱)
مسئلہ:۔معذور کا وضو اس چیز سے نہیں جاتا جس کے سبب سے معذور ہے لیکن اگر کوئی وضو توڑنے والی دوسری چیز پائی گئی تو اس کا وضو جاتا رہے گا۔ جیسے کسی کو قطرے کا مرض ہے اور وہ معذور مان لیا گیا۔ تو نماز کے پورے وقت میں قطرہ آنے سے تو اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔ لیکن ہوا نکلنے سے اس کا وضو ٹوٹ جائے گا۔
(بہار شریعت،ج۱،ح۲،ص۹۴)
مسئلہ:۔اگر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے میں قطرہ آجاتا ہے اور بیٹھ کر نماز پڑھنے میں قطرہ نہیں آتا تو اس پر فرض ہے کہ نماز بیٹھ کر پڑھا کرے اور وہ معذور نہیں شمار کیا جائے گا ۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ، الباب السادس،ومما یتصل بذلک احکام المعذور، ج۱،ص۴۱)
نماز کے وقتوں کا بیان
دن رات میں کل پانچ نمازیں فرض ہیں۔ فجر' ظہر' عصر' مغرب' عشاء ان پانچوں نمازوں کا اﷲ تعالیٰ کی طرف سے وقت مقرر ہے۔اورجس نماز کا جو وقت مقرر ہے اس نماز کو وقت میں پڑھنا فرض ہے ۔ وقت نکل جانے کے بعد نماز قضا ہوجاتی ہے ۔
اب ہم نمازوں کے وقتوں کا بیان کرتے ہیں کہ کس نماز کا وقت کب سے شروع ہوتا ہے اور کب ختم ہو جاتا ہے۔
فجر کا وقت:۔صبح صادق سے شروع ہو کر سورج نکلنے تک ہے اس درمیان جب