مسئلہ:۔اگر دس دن سے کم میں حیض بند ہو گیا تو تاوقتیکہ غسل نہ کرے یا وہ وقت نماز جس میں پاک ہوئی نہ گزر جائے صحبت کرنا جائز نہیں۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ ،الفصل الرابع فی احکام الحیض والنفاس والاستحاضۃ، ج۱،ص۳۹)
مسئلہ:۔حیض و نفاس کی حالت میں سجدۂ تلاوت بھی حرام ہے اور سجدہ کی آیت سننے سے اس پر سجدہ واجب نہیں۔
(ردالمحتارمع الدرالمختار، کتاب الطہارۃ، باب فی الحیض،مطلب: لوافتی... الخ، ج۱،ص۵۳۲)
مسئلہ:۔رات کو سوتے وقت عورت پاک تھی اور صبح کو سو کر اٹھی تو حیض کا اثر دیکھا تو اسی وقت سے حیض کا حکم دیا جائے گا۔ رات سے حائضہ نہیں مانی جائے گی۔
(الدرالمختار،کتاب الطہارۃ ،باب فی الحیض، ج۱،ص۵۳۳)
مسئلہ:۔حیض والی صبح کو سو کر اٹھی اور گدی پر کوئی نشان حیض کا نہیں تو رات ہی سے پاک مانی جائے گی۔
(الدرالمختاروردالمحتار،کتاب الطہارۃ ،باب فی الحیض، ج۱،ص۵۳۳)
استحاضہ کے احکام:۔استحاضہ میں نہ نماز معاف ہے نہ روزہ۔ نہ ایسی عورت سے صحبت حرام۔ استحاضہ والی عورت نماز بھی پڑھے گی۔ روزہ بھی رکھے گی۔ کعبہ میں بھی داخل ہوگی۔ طواف کعبہ بھی کرے گی۔ قرآن شریف کی تلاوت بھی کر سکے گی وضو کر کے