Brailvi Books

جنتی زیور
251 - 676
مسئلہ:۔حیض و نفاس کی حالت میں بیوی کو اپنے بستر پر سلانے میں غلبہ شہوت یا اپنے کو قابو میں نہ رکھنے کا اندیشہ ہو تو شوہر کے لئے لازم ہے کہ بیوی کو اپنے بستر پر نہ سلائے بلکہ اگر گمان غالب ہو کہ شہوت پر قابو نہ رکھ سکے گا تو شوہر کو ایسی حالت میں بیوی کو اپنے ساتھ سلانا حرام اور گناہ ہے۔
   (بہارشریعت،ج۱،ح۲،ص۹۱)
مسئلہ:۔حیض و نفاس کی حالت میں بیوی کے ساتھ ہمبستری کو حلال سمجھنا کفر ہے اور حرام سمجھتے ہوئے کر لیا تو سخت گناہگار ہوا۔ اس پر توبہ کرنا فرض ہے۔ اور اگر شروع حیض و نفاس میں ایسا کر لیا تو ایک دینار اور اگر قریب ختم کے کیا تو نصف دینار خیرات کرنا مستحب ہے تاکہ خدا کے غضب سے امان پائے۔
(الدرالمختار مع ردالمحتار،کتاب الطہارۃ ، باب فی الحیض ، مطلب :لو افتی مفت بشیئ من ھذہ الاقوال فی مواضع الضرورۃ، ج۱،ص۵۴۲۔۵۴۳)
مسئلہ:۔روزے کی حالت میں اگر حیض و نفاس شروع ہوگیا تو وہ روزہ جاتا رہا اس کی قضا رکھے فرض تھا تو قضا فرض ہے اور نفل تھا تو قضا واجب ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ ،الفصل الرابع فی احکام الحیض والنفاس والاستحاضۃ، ج۱،ص۳۸)
مسئلہ:۔نفاس کی حالت میں عورت کو زچہ خانہ سے نکلنا جائز ہے یوں ہی حیض و نفاس والی عورت کو ساتھ کھلانے اور اس کا جھوٹا کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ پاکستان میں بعض جگہ جاہل عورتیں حیض و نفاس والی عورتوں کے برتن الگ کردیتی ہیں بلکہ ان برتنوں اور حیض و نفاس والی عورتوں کو نجس جانتی ہیں۔ یاد رکھو کہ یہ سب ہندوؤں کی رسمیں ہیں۔ ایسی بیہودہ رسموں سے مسلمان عورتوں مردوں کو بچنا لازم ہے۔ اکثر عورتوں میں رواج ہے کہ جب تک چلہ پورا نہ ہوجائے اگر چہ نفاس کا خون بند ہو چکا ہو وہ نہ نماز پڑھتی ہیں نہ اپنے کو نماز کے قابل سمجھتی ہیں۔ یہ بھی محض جہالت ہے شریعت کا حکم یہ ہے کہ جیسے ہی نفاس کا
Flag Counter