مسئلہ:۔روزے کی حالت میں اگر حیض و نفاس شروع ہوگیا تو وہ روزہ جاتا رہا اس کی قضا رکھے فرض تھا تو قضا فرض ہے اور نفل تھا تو قضا واجب ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ ،الفصل الرابع فی احکام الحیض والنفاس والاستحاضۃ، ج۱،ص۳۸)
مسئلہ:۔نفاس کی حالت میں عورت کو زچہ خانہ سے نکلنا جائز ہے یوں ہی حیض و نفاس والی عورت کو ساتھ کھلانے اور اس کا جھوٹا کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ پاکستان میں بعض جگہ جاہل عورتیں حیض و نفاس والی عورتوں کے برتن الگ کردیتی ہیں بلکہ ان برتنوں اور حیض و نفاس والی عورتوں کو نجس جانتی ہیں۔ یاد رکھو کہ یہ سب ہندوؤں کی رسمیں ہیں۔ ایسی بیہودہ رسموں سے مسلمان عورتوں مردوں کو بچنا لازم ہے۔ اکثر عورتوں میں رواج ہے کہ جب تک چلہ پورا نہ ہوجائے اگر چہ نفاس کا خون بند ہو چکا ہو وہ نہ نماز پڑھتی ہیں نہ اپنے کو نماز کے قابل سمجھتی ہیں۔ یہ بھی محض جہالت ہے شریعت کا حکم یہ ہے کہ جیسے ہی نفاس کا