Brailvi Books

جنتی زیور
250 - 676
وغیرہ حیض ونفاس کی حالت میں عورت بلا کراہت پڑھ سکتی ہے بلکہ مستحب ہے کہ نمازوں کے اوقات میں وضو کر کے اتنی دیر تک درود شریف اور دوسرے وظائف پڑھ لیا کرے جتنی دیر میں نماز پڑھ سکتی تھی تاکہ عادت باقی رہے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ ،الفصل الرابع فی احکام الحیض والنفاس والاستحاضۃ، ج۱،ص۳۸)
مسئلہ:۔حیض و نفاس کی حالت میں ہمبستری یعنی جماع حرام ہے۔ بلکہ اس حالت میں ناف سے گھٹنے تک عورت کے بدن کو مرد اپنے کسی عضو سے نہ چھوئے کہ یہ بھی حرام ہے ہاں البتہ ناف سے اوپر اور گھٹنا کے نیچے اس حالت میں عورت کے بدن کو بوسہ دینا جائز ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ ،الفصل الرابع فی احکام الحیض والنفاس والاستحاضۃ، ج۱،ص۳۹)
مسئلہ:۔حیض و نفاس کی حالت میں عورت کو مسجد میں جانا حرام ہے۔ ہاں اگر چور یا درندے سے ڈر کر یا کسی بھی شدید مجبوری سے مجبور ہو کر مسجد میں چلی جائے تو جائز ہے مگر اس کو چاہے کہ تیمم کر کے مسجد میں جائے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ ،الفصل الرابع فی احکام الحیض والنفاس والاستحاضۃ، ج۱،ص۳۸)
مسئلہ:۔حیض و نفاس والی عورت اگر عیدگاہ میں داخل ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ ،الفصل الرابع فی احکام الحیض والنفاس والاستحاضۃ، ج۱،ص۳۸)
مسئلہ:۔حیض و نفاس کی حالت میں اگر مسجد کے باہر رہ کر اور ہاتھ بڑھا کر مسجد سے کوئی چیز اٹھا لے یا مسجد میں کوئی چیز رکھ دے تو جائز ہے۔
                (بہارشریعت،ج۱،ح۲،ص۸۹)
مسئلہ:۔حیض و نفاس والی کو خانہ کعبہ کے اندر جانا اور اس کا طواف کرنا اگرچہ مسجد حرام کے باہر سے ہو حرام ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ ،الفصل الرابع فی احکام الحیض والنفاس والاستحاضۃ، ج۱،ص۳۸)
Flag Counter