مسئلہ:۔کسی عورت کو چالیس دن سے زیادہ خون آیا تو اگر عورت کے پہلی ہی بار بچہ پیدا ہوا ہے۔ یا یہ یاد نہیں کہ اس سے پہلے بچہ پیدا ہونے میں کتنے دن خون آیا تھا تو چالیس دن رات نفاس ہے۔ باقی استحاضہ اور جو پہلی عادت معلوم ہو تو عادت کے دنوں میں نفاس ہے اور جو اس سے زیادہ ہے وہ استحاضہ ہے جیسے تیس دن نفاس کا خون آنے کی عادت تھی مگر اب کی مرتبہ پینتالیس دن خون آیا تو تیس دن نفاس کے مانے جائیں گے اور پندرہ دن استحاضہ کے ہوں گے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ ،الفصل الثانی فی النفاس ، ج۱،ص۳۷)
حیض و نفاس کے احکام:۔حیض و نفاس کی حالت میں نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا حرام ہے۔ ان دونوں میں نمازیں معاف ہیں ان کی قضا بھی نہیں۔ البتہ روزوں کی قضادوسرے دنوں میں رکھنا فرض ہے اور حیض و نفاس والی عورت کو قرآن مجید پڑھنا حرام ہے خواہ دیکھ کر پڑھے یا زبانی پڑھے۔ یوں ہی قرآن مجید کا چھونا بھی حرام ہے۔ ہاں اگر جزدان میں قرآن مجید ہو تو اس جزدان کو چھونے میں کوئی حرج نہیں۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ ،الفصل الرابع فی احکام الحیض والنفاس والاستحاضۃ، ج۱،ص۳۸)
مسئلہ:۔قرآن مجید پڑھنے کے علاوہ دوسرے تمام و ظائف کلمہ شریف درود شریف