Brailvi Books

جنتی زیور
248 - 676
زیادہ ہوا وہ استحاضہ ہے مثال کے طور پر یہ سمجھو کہ اس کو ہر مہینے میں پانچ دن حیض آنے کی عادت تھی اب کی مرتبہ دس دن آیا تو دس دن حیض ہے اور اگر بارہ دن خون آیا تو عادت والے پانچ دن حیض کے مانے جائیں گے اور سات دن استحاضہ کے اور اگر ایک حالت مقرر نہ تھی بلکہ کبھی چار دن کبھی پانچ دن حیض آیا کرتا تھا تو پچھلی مرتبہ جتنے دن حیض کے تھے وہی اب بھی حیض کے مانے جائیں گے۔ اور باقی استحاضہ مانا جائے گا۔
        (الدرالمختار،کتاب الطہارۃ ،باب فی الحیض،ج۱،ص۵۲۳)
مسئلہ:۔کم سے کم نو برس کی عمر سے عورت کو حیض شروع ہوگا۔ اور حیض آنے کی انتہائی عمر پچپن سال ہے۔ اس عمر والی عورت کو آئسہ (حیض و اولاد سے نا امید ہونے والی) کہتے ہیں۔ نو برس کی عمر سے پہلے جو خون آئے گا وہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے یوں ہی پچپن برس کی عمر کے بعد جو آئے گا وہ بھی استحاضہ ہے۔ لیکن اگر کسی عورت کو پچپن برس کی عمر کے بعد بھی خالص خون بالکل ایسے ہی رنگ کا آیا جیسا کہ حیض کے زمانے میں آیا کرتا تھا تو اس کو حیض مان لیا جائے گا۔
        (الدرالمختار،کتاب الطہارۃ ،باب فی الحیض،ج۱،ص۵۲۴)
مسئلہ:۔حمل والی عورت کو جو خون آیا وہ استحاضہ ہے۔
        (الدرالمختار،کتاب الطہارۃ ،باب فی الحیض،ج۱،ص۵۲۴)
مسئلہ:۔دو حیضوں کے درمیان کم سے کم پورے پندرہ دن کا فاصلہ ضروری ہے یوں ہی نفاس اور حیض کے درمیان بھی پندرہ دن کا فاصلہ ضروری ہے تو اگر نفاس ختم ہونے کے بعد پندرہ دن پورے نہ ہوئے تھے کہ خون آگیا تو یہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔
        (الدرالمختار،کتاب الطہارۃ ،باب فی الحیض،ج۱،ص۵۲۴)
مسئلہ:۔حیض کے چھ رنگ ہیں۔ (۱)سیاہ (۲)سرخ(۳) سبز(۴)زرد
Flag Counter