| جنتی زیور |
زیادہ ہوا وہ استحاضہ ہے مثال کے طور پر یہ سمجھو کہ اس کو ہر مہینے میں پانچ دن حیض آنے کی عادت تھی اب کی مرتبہ دس دن آیا تو دس دن حیض ہے اور اگر بارہ دن خون آیا تو عادت والے پانچ دن حیض کے مانے جائیں گے اور سات دن استحاضہ کے اور اگر ایک حالت مقرر نہ تھی بلکہ کبھی چار دن کبھی پانچ دن حیض آیا کرتا تھا تو پچھلی مرتبہ جتنے دن حیض کے تھے وہی اب بھی حیض کے مانے جائیں گے۔ اور باقی استحاضہ مانا جائے گا۔
(الدرالمختار،کتاب الطہارۃ ،باب فی الحیض،ج۱،ص۵۲۳)
مسئلہ:۔کم سے کم نو برس کی عمر سے عورت کو حیض شروع ہوگا۔ اور حیض آنے کی انتہائی عمر پچپن سال ہے۔ اس عمر والی عورت کو آئسہ (حیض و اولاد سے نا امید ہونے والی) کہتے ہیں۔ نو برس کی عمر سے پہلے جو خون آئے گا وہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے یوں ہی پچپن برس کی عمر کے بعد جو آئے گا وہ بھی استحاضہ ہے۔ لیکن اگر کسی عورت کو پچپن برس کی عمر کے بعد بھی خالص خون بالکل ایسے ہی رنگ کا آیا جیسا کہ حیض کے زمانے میں آیا کرتا تھا تو اس کو حیض مان لیا جائے گا۔
(الدرالمختار،کتاب الطہارۃ ،باب فی الحیض،ج۱،ص۵۲۴)
مسئلہ:۔حمل والی عورت کو جو خون آیا وہ استحاضہ ہے۔
(الدرالمختار،کتاب الطہارۃ ،باب فی الحیض،ج۱،ص۵۲۴)
مسئلہ:۔دو حیضوں کے درمیان کم سے کم پورے پندرہ دن کا فاصلہ ضروری ہے یوں ہی نفاس اور حیض کے درمیان بھی پندرہ دن کا فاصلہ ضروری ہے تو اگر نفاس ختم ہونے کے بعد پندرہ دن پورے نہ ہوئے تھے کہ خون آگیا تو یہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔
(الدرالمختار،کتاب الطہارۃ ،باب فی الحیض،ج۱،ص۵۲۴)
مسئلہ:۔حیض کے چھ رنگ ہیں۔ (۱)سیاہ (۲)سرخ(۳) سبز(۴)زرد