Brailvi Books

جنتی زیور
245 - 676
چوتھائی سے کم لگی ہے تو معاف ہے (کہ اس سے نماز ہوجائے گی)اور اگر پوری چوتھائی میں لگی ہو تو بغیر دھو کر پاک کئے نمازنہ ہوگی۔
        (الدرالمختار،کتاب الطہارۃ ،باب الانجاس،ج۱،ص۵۷۸)
مسئلہ:۔جو نجاست کپڑے یا بدن میں لگی ہے اس کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر نجاست دل والی ہو۔ جیسے لید' گوبر' پاخانہ تو اس کے دھو نے میں کوئی گنتی مقرر نہیں بلکہ اس نجاست کو دور کرنا ضروری ہے اگر ایک بار دھونے سے دور ہو جائے تو ایک ہی مرتبہ دھونے سے بدن یا کپڑا پاک ہو جائے گا اور اگر چار پانچ مرتبہ دھونے سے دور ہو تو چار پانچ مرتبہ دھونا پڑے گا۔ ہاں اگر تین مرتبہ سے کم میں نجاست دور ہو جائے تو تین بار دھو لینا بہتر ہے اور اگر نجاست دلدار نہ ہو بلکہ پتلی ہو ' جیسے پیشاب وغیرہ تو تین مرتبہ دھوئے اور تینوں مرتبہ قوت کے ساتھ نچوڑنے سے کپڑا پاک ہوجائے گا۔
     (الدرالمختار،کتاب الطہارۃ ،باب الانجاس،ج۱،ص۵۹۳۔۵۹۴)
مسئلہ:۔نجاست غلیظہ اور خفیفہ کے جو الگ الگ حکم بتائے گئے ہیں یہ اسی وقت ہیں کہ بدن اور کپڑے میں نجاست لگی ہو اور اگرکسی پتلی چیز دودھ یا سر کہ یا پانی میں نجاست پڑ جائے تو چاہے نجاست غلیظہ ہو یا خفیفہ بہر حال پتلی چیز ناپاک ہو جائیگی۔ اگرچہ ایک ہی قطرہ نجاست پڑ گئی۔
(الدرالمختارمع ردالمحتار،کتاب الطہارۃ ،باب فی الانجاس،مبحث : فی بول الفارۃ وبعرھا...الخ،ج۱،ص۵۷۹)
مسئلہ:۔نجاست خفیفہ نجاست غلیظہ میں مل جائے تو کل نجاست غلیظہ ہو جائے گی۔
        (الدرالمختار،کتاب الطہارۃ ،باب الانجاس،ج۱،ص۵۷۷)
مسئلہ:۔حرام جانوروں کا دودھ نجس ہے البتہ گھوڑی کا دودھ پاک ہے مگر کھانا جائز نہیں۔
      (بہار شریعت،ج۱،ح۲،ص۹۹)
Flag Counter