مسئلہ:۔نجاست غلیظہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کپڑے یا بدن میں ایک درہم سے زیادہ لگ جائے تو اس کا پاک کرنا فرض ہے۔ بے پاک کئے اگر نماز پڑھ لی تو ہوگی ہی نہیں اور قصدا پڑھی تو گناہ بھی ہوا۔ اور اگر نماز کو حقیر چیز سمجھتے ہوئے ایسا کیا تو کفرا ہوا۔ا ور اگر درہم کے برابر ہے تو پاک کرنا واجب ہے کہ بے پاک کئے نماز پڑھی تو نماز مکروہ تحریمی ہوئی یعنی ایسی نماز کو دہرالینا واجب ہے اور قصدا پڑھی تو گناہگار بھی ہوا۔ اور اگر درہم سے کم ہے تو پاک کرنا سنت ہے کہ بے پاک کئے نماز ہوگئی مگر خلاف سنت ہوئی۔ اور اس نماز کو دوہرا لینا بہتر ہے۔
(ردالمحتار،کتاب الطہارۃ ،باب الانجاس،ج۱،ص۵۷۱)
مسئلہ:۔نجاست غلیظہ اگر گاڑھی ہو جیسے پاخانہ' لید' گوبر تو درہم کے برابر یا کم زیادہ ہونے کے معنی یہ ہے کہ وزن میں درہم کے برابر یا کم یا زیادہ ہو درہم کا وزن ساڑھے چار ماشہ ہے اور اگر نجاست غلیظہ پتلی ہو جیسے پیشاب اور شراب وغیرہ تو درہم سے مراد اس کی لمبائی چوڑائی ہے اور شریعت نے درہم کی لمبائی چوڑائی کی مقدار ہتھیلی کی گہرائی کے برابر بتائی ہے ۔ یعنی ہتھیلی خوب پھیلا کر ہموار رکھیں اور اس پر آہستہ آہستہ اتنا پانی ڈالیں کہ اس سے زیادہ پانی رک نہ سکے۔ اب جتنا پانی کا پھیلاؤ ہے۔ اتنی بڑی درہم کی لمبائی چوڑائی ہوتی ہے۔ یعنی روپے کی لمبائی چوڑ ائی کے برابر۔
(الدرالمختاروردالمحتار،کتاب الطہارۃ ،باب الانجاس،ج۱،ص۵۷۳۔۵۷۴)
مسئلہ:۔نجاست خفیفہ کا حکم یہ ہے کہ کپڑے یا بدن کے جس حصہ میں لگی ہے اگر اس کی چوتھائی سے کم ہے مثلاً آستین میں لگی ہے تو اس کی چوتھائی سے کم میں لگی۔ ہاتھ میں ہاتھ کی