مسئلہ:۔یہ جو حکم دیا گیا ہے کہ فلاں فلاں صورت میں اتنا اتنا پانی نکالا جائے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ جو چیز کنوئیں میں گری ہے پہلے اس کو کنوئیں میں سے نکال لیں پھر اتنا پانی نکا لیں۔ اگر وہ چیز کنوئیں ہی میں پڑی رہی تو کتنا ہی پانی نکالیں بے کار ہے۔
(الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر،ج۱،ص۴۰۹)
مسئلہ:۔جہاں اتنے اتنے ڈول پانی نکالنے کا ذکر آیا ہے وہاں ڈول کی گنتی اس ڈول سے کی جائے گی جو ڈول اس کنوئیں پر استعمال ہوتا رہا ہے اور اگر اس کنوئیں کا کوئی خاص ڈول نہ ہو تو اتنا بڑا ڈول ہونا چاہے کہ جس میں سوا پانچ کیلو پانی آجائے۔
(الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر،ج۱،ص۴۱۶)
مسئلہ:۔سالن یا پانی شربت میں اگر مکھی گر پڑے تو اس کو غوطہ دے کر باہر پھینک دیں اور سالن' پانی' شربت' کو کھا پی لیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر کھانے میں مکھی گر پڑے تو اس کو کھانے میں غوطہ دے کر مکھی کو پھینک دیں پھر اس کھانے کو کھائیں کیونکہ مکھی