Brailvi Books

جنتی زیور
241 - 676
کنوئیں کے مسائل
  کنوئیں میں کسی آدمی یا جانور کا پاخانہ' پیشاب' یا مرغی یا بطخ کی بیٹ یا خون یا تاڑی شراب وغیرہ کسی نجاست کا ایک قطرہ بھی گر پڑے یا کوئی بھی ناپاک چیز کنوئیں میں پڑ جائے تو کنواں ناپاک ہو جائے گا اس کا کل پانی نکالا جائے گا۔
(الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر،ج۱،ص۴۰۷۔۴۰۹)
مسئلہ:۔اگر کنوئیں میں آدمی' گائے' بھینس' بکری یا اتنا ہی بڑا کوئی جانور گر کر مر جائے یا چھوٹے سے چھوٹا بہنے والے خون والا جانور کنوئیں میں مر کر پھول پھٹ جائے یا ایسا جانور جس کا جھوٹا ناپاک ہے کنوئیں میں گر پڑے اگرچہ زندہ نکل آئے جیسے سور' کتا تو ان سب صورتوں میں کنواں ناپاک ہو جائے گا اور کل پانی نکالا جائے گا۔
(الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر،ج۱،ص۴۰۷۔۴۱۰/

الفتاوی القاضی خان ، کتاب الطہارۃ ، فصل فی مایقع فی البئر،ج۱،ص۵)
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ،الباب الثالث،الفصل الاول،النوع الثالث ماء لآبار،ج۱،ص۱۹)
مسئلہ:۔اگر چوہا' چھپکلی' گرگٹ یا ان کے برابریا ان سے چھوٹا جانور کنوئیں میں گر کر مرجائے۔ا ور پھولنے پھٹنے سے پہلے نکال لیا جائے تو بیس ڈول پانی نکالنا واجب اور تیس ڈول پانی نکال دینا مستحب ہے اس کے بعد کنواں پاک ہو جائے گا۔
    (الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر،ج۱،ص۴۱۱)
Flag Counter