| جنتی زیور |
مسئلہ:۔دس ہاتھ لمبا دس ہاتھ چوڑا جو حوض ہو اسے دہ دردہ اور بڑا حوض کہتے ہیں یوں ہی بیس ہاتھ لمبا پانچ ہاتھ عرض کل لمبائی چوڑائی سو ہاتھ ہو اور اگر گول ہو تو اس کی گولائی ساڑھے پینتیس ہاتھ ہو۔ اور اگر لمبائی چوڑائی سو ہاتھ نہ ہو تو اس کو چھوٹا حوض کہتے ہیں اگرچہ کتنا ہی گہرا ہو بڑے حوض میں اگر نجاست پڑ گئی تو اس وقت تک پاک مانا جائے گا جب تک اس نجاست کے اثر سے اس کے پانی کا رنگ و بو یا مزہ نہ بدل جائے اور چھوٹا حوض ایک قطرہ نجاست پڑ جانے سے بھی ناپاک ہو جائے گا۔
(بہارشریعت،ح۲،ص۴۶۔۴۷)
مسئلہ:۔جو پانی وضو یا غسل کرنے میں بدن سے گرا وہ پاک ہے مگر اس سے وضو اور غسل جائز نہیں۔ یوں ہی اگر بے وضو شخص کا ہاتھ یا انگلی یا پورایا ناخن یا بدن کا کوئی ٹکڑا جو وضو میں دھویا جاتا ہو بقصدیا بلا قصد دہ دردہ سے کم پانی میں بے دھوئے پڑ جائے تو وہ پانی وضو اور غسل کے لائق نہ رہا اسی طرح جس شخص پر نہانا فرض ہے اس کے جسم کا کوئی بے دھلا ہوا حصہ پانی سے چھو جائے تو پانی وضو اور غسل کے کام کا نہ رہا اگر دھلا ہوا ہاتھ یا بدن کا کوئی حصہ پانی میں پڑ جائے تو کوئی حرج نہیں۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ، الباب الثالث فی المیاہ، الفصل الثانی ،ج۱،ص۲۲۔۲۳)
مسئلہ:۔اگر ہاتھ دھلا ہوا ہے۔ مگر پھر دھونے کی نیت سے پانی میں ہاتھ ڈالا۔ اور یہ دھونا ثواب کا کام ہو جیسے کھانے کے لیے یاوضو کے لیے تو یہ پانی مستعمل ہوگیا یعنی وضو کے قابل نہ رہا اور اس کا پینا بھی مکروہ ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ، الباب الثالث فی المیاہ، الفصل الثانی ،ج۱، ص۲۳۔۲۵ / بہارشریعت،ج۱،ح۲،ص۴۷)
اس مسئلہ کا خاص طور پر دھیان رکھنا چاہے عوام تو عوام بعض خواص بھی اس مسئلہ