| جنتی زیور |
کہلانے لگا یا پانی میں چند مسالے مل گئے اور وہ شور با کہلانے لگا۔ یابڑے حوض اور تالاب میں کوئی ناپاک چیز اس قدر زیادہ پڑ گئی کہ پانی کا رنگ یا بو یا مزہ بدل گیا یا چھوٹے حوض یا بالٹی یا گھڑے میں کوئی ناپاک چیز پڑ گئی یا کوئی ایسا جانورگرکر مرگیا جس کے بدن میں بہتا ہوا خون ہوتا ہے۔ اگرچہ پانی کا رنگ یا بویا مزہ نہ بدلہ ہو یا وہ پانی جو وضو یا غسل کا دھوون ہوان سب پانیوں سے وضو اور غسل کرنا جائز نہیں۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ، الباب الثالث فی المیاہ، الفصل الثانی فی مالایجوز بہ الوضوء،ج۱،ص۲۱)
مسئلہ:۔پانی میں اگر کوئی ایسا جانور مرگیا ہو جس میں بہتا ہوا خون نہیں ہوتا جیسے مکھی' مچھر' بھڑ'شہد کی مکھی' بچھو' برساتی کیڑے مکوڑے تو ان جانوروں کے مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا اور اس پانی سے وضو اور غسل کرنا جائز ہے۔
(درمختاروردالمحتار،کتاب الطہارۃ،مطلب:فی مسألۃالوضوء من الفساقی،ج۱،ص۳۶۵/ الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ، الباب الثالث فی المیاہ، الفصل الثانی فی مالایجوز بہ الوضوء،ج۱،ص۲۴)
مسئلہ:۔اگر پانی میں تھوڑا سا صابون مل گیا جس سے پانی کا رنگ بدل گیا تو اس پانی سے وضو اور غسل جائز ہے لیکن اگر اس قدر زیادہ صابون پانی میں گھول دیا گیا کہ پانی ستو کی طرح گاڑھا ہو گیا تو اس پانی سے وضو اور غسل کرنا جائز نہیں ہوگا۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ، الباب الثالث فی المیاہ، الفصل الثانی ،ج۱،ص۲۱)
مسئلہ:۔جو جانور پانی ہی میں پیدا ہوتے ہیں اور پانی ہی میں زندگی بسر کرتے ہیں جیسے مچھلیاں اور پانی کے مینڈک وغیرہ ان کے پانی میں مرجانے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا بلکہ اس سے وضو اور غسل جائز ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ، الباب الثالث فی المیاہ، الفصل الثانی ،ج۱،ص۲۴)