| جنتی زیور |
سے غافل ہیں۔ مسئلہ:۔اتنے زور سے بہتا ہوا پانی کہ اگر اس میں تنکا ڈالا جائے تو اس کو بہالے جائے نجاست کے پڑنے سے ناپاک نہیں ہوگا لیکن اتنی زیادہ نجاست پڑجائے کہ وہ نجاست پانی کے رنگ یا بو یا مزہ بدل دے تو اس صورت میں بہتا ہوا پانی بھی ناپاک ہوجائے گا اور یہ پانی اس وقت پاک ہوگا کہ پانی کا بہاؤ ساری نجاست کو بہالے جائے اور پانی کا رنگ اور بو' مزہ ٹھیک ہوجائے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ، الباب الثالث فی المیاہ، الفصل الثانی ،ج۱،ص۱۷۔۱۸)
مسئلہ:۔تالاب اور دس ہاتھ لمبا دس ہاتھ چوڑا حوض بھی بہتے ہوئے پانی کے حکم میں ہے کہ یہ بھی تھوڑی سی نجاست پڑ جانے سے ناپاک نہیں ہوگا لیکن جب اس میں اتنی نجاست پڑجائے کہ پانی کا رنگ یا بو یا مزہ بدل جائے تو ناپاک ہوجائے گا۔(بہار شریعت،ج۱،ح ۲،ص۴۷) مسئلہ:۔ناپاک پانی کو خود بھی استعمال کرنا حرام ہے اور جانوروں کو بھی پلانا ناجائز ہے ہاں گارے وغیرہ کے کام میں لا سکتے ہیں مگر اس گارے مٹی کو مسجد میں لگانا جائز نہیں۔ مسئلہ:۔ناپاک پانی بدن یا کپڑے یا جس چیز میں بھی لگ جائے وہ ناپاک ہو جائے گا۔ اس کو جب تک پاک پانی سے دھو کر پاک نہ کرلیں۔ پاک نہیں ہوگا۔ مسئلہ:۔پانی میں بلا دھلا ہوا ہاتھ پڑ گیا اور کسی طرح مستعمل ہو گیا اور یہ چاہیں کہ یہ کام کا ہو جائے تو اچھا پانی اس سے زیادہ اس میں ملا دیں نیز اس کا طریقہ یہ بھی ہے کہ ایک طرف سے پانی ڈالیں کہ دوسری طرف سے بہہ جائے۔ سب کام کا ہو جائے گا یوں ہی ناپاک پانی کو بھی پاک کرسکتے ہیں۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ، الباب الثالث فی المیاہ، الفصل الثانی ،ج۱،ص۱۷)