Brailvi Books

جنتی زیور
230 - 676
تیمم کا بیان
    اگر کسی وجہ سے پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہو تو وضو اور غسل دونوں کے لئے تیمم کر لینا جائز ہے۔ مثلاً ایسی جگہ ہو کہ وہاں چاروں طرف ایک میل تک پانی کا پتا نہ ہو۔ یا پانی تو قریب ہی میں ہو مگر دشمن یا درندہ جانور کے خوف یا کسی دوسری وجہ سے پانی نہ لے سکتا ہو۔ پانی کے استعمال سے بیماری بڑھ جانے کا اندیشہ اور گمان غالب ہو۔ تو ان صورتوں میں بجائے وضو اور غسل کے تیمم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ،الباب الرابع فی التیمم،الفصل الاول،ج۱،ص۲۷۔۲۸)
تیمم کا طریقہ:۔تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ بسم اﷲ پڑھ کر پہلے دل میں تیمم کی نیت کرے اور زبان سے یہ بھی کہہ دے کہ
نَوَیْتُ اَنْ اَتَیَمَّمَ تَقَرُّباً اِلَی اللہِ تَعَالٰی
پھر دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو کشادہ کرکے زمین یا دیوار پر دونوں ہاتھوں کو مارے پھر دونوں ہاتھوں کو پورے چہرے پر اس طرح پھرائے کہ جہاں تک وضو میں چہرہ دھونا فرض ہے پورے چہرہ پر ہر جگہ ہاتھ پھر جائے۔ اگر بلاق یا نتھ پہنے ہو تو اس کو ہٹا کر اس کے نیچے کی کھال پر ہاتھ پھرائے پھر دوبارہ دونوں ہاتھوں کو زمین یا دیوار پر مار کر اپنے داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر اور بائیں ہاتھ کو اپنے دائیں ہاتھ پر رکھ کر دونوں ہاتھوں پر کہنیوں سمیت ہاتھ پھرائے اور جہاں تک وضو میں دونوں ہاتھوں کا دھونا فرض ہے وہاں تک ہاتھ کے ہر حصہ پر ہاتھ پھر جائے اگر ہاتھوں میں چوڑیاں یا کوئی زیور پہنے ہوئے ہو تو زیور کو ہٹا کر اس کے نیچے کی کھال پر ہاتھ پھرائے۔ اگر چہرہ اور دونوں ہاتھ پر بال برابر جگہ پر بھی ہاتھ نہیں پھرایا تو تیمم نہیں ہو گا اس لئے خاص طور پر اس کا دھیان رکھنا چاہے کہ چہرے اور دونوں ہاتھوں پر ہر جگہ ہاتھ پھرائے۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ الباب الرابع فی التیمم، الفصل الاول فی امورلابدمنھا فی التیمم، ج۱،ص۲۵۔۲۶)
تیمم کے فرائض:۔تیمم میں تین چیزیں فرض ہیں۔ (۱)تیمم کی نیت
Flag Counter