Brailvi Books

جنتی زیور
229 - 676
مسئلہ:۔عورتوں کو بیٹھ کر نہانا بہتر ہے۔ مرد کھڑے ہو کر نہائے یا بیٹھ کر دونو ں میں کوئی حرج نہیں۔                (بہار شریعت،ج۱،ح۲،ص۳۷)
مسئلہ:۔غسل کے بعد فوراً  کپڑے پہن لے۔ دیر تک ننگے بدن نہ رہے۔                (بہارشریعت،ج۱،ح۲،ص۳۷)
مسئلہ:۔جس طرح مردوں کو مردوں کے سامنے ستر کھول کر نہانا حرام ہے اسی طرح عورتوں کو بھی عورتوں کے سامنے ستر کھول کر نہانا جائز نہیں کیونکہ دوسروں کے سامنے بلا ضرورت ستر کھولنا حرام ہے۔

(ردالمحتار،کتاب الطہارۃ،مطلب فی ابحاث الغسل،ج۱،ص۳۱۸/بہارشریعت،ج۱،ح۲،ص۳۸)
مسئلہ:۔جس پر غسل واجب ہے اسے چاہے کہ نہانے میں تاخیر نہ کرے بلکہ جلد سے جلد غسل کرے کیونکہ حدیث شریف میں ہے جس گھر میں جنب یعنی ایسا آدمی ہو جس پر غسل فرض ہے اس گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے اور اگر غسل کرنے میں اتنی دیر کر چکا کہ نماز کا آخر وقت آگیا تو اب فوراً نہانا فرض ہے۔ اب تاخیر کریگا تو  گناہگار ہوگا۔        (بہارشریعت،ج۱،ح۲،ص۴۲)
مسئلہ:۔جس شخص پر غسل فرض ہے اگر وہ کھانا کھانا چاہتا ہے یا عورت سے جماع کرنا چاہتا ہے تو اس کو چاہے کہ وضو کرلے یا کم سے کم ہاتھ منہ دھولے اور کلی کرے اور اگر ویسے ہی کھا پی لیا تو  گناہ نہیں مگر مکروہ ہے اور محتاجی لاتا ہے اور بے نہائے یا بے وضو کئے جماع کر لیا تو بھی کچھ گناہ نہیں مگر جس شخص کو احتلام ہوا ہو اس کو بے نہائے عورت کے پاس نہیں جانا چاہے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ،الباب الثانی فی الغسل، الفصل الثالث فی المعانی الموجبۃ۔۔۔الخ،ج۱،ص۱۶)
Flag Counter