| جنتی زیور |
(الفتاوی الھندیۃکتاب الطہارۃ، الباب الثانی فی الغسل، الفصل الثالث فی المعانی الموجبۃ للغسل، ج۱،ص۱۶)
مسئلہ:۔میدان عرفات اور مزدلفہ میں ٹھہرنے حرم کعبہ اور روضہ منورہ کی حاضری' طواف کعبہ۔ منیٰ میں داخل ہونے' جمروں کو کنکریاں مارنے کے لئے غسل کرلینا مستحب ہے۔ اسی طرح شب قدر' شب برات' عرفہ کی رات میں' مردہ نہلانے کے بعد' جنون اور غشی سے ہوش میں آنے کے بعد' گناہ سے توبہ کرنے کے لئے' نماز استسقاء کے لئے' گرہن کے وقت نماز کے لئے' خوف' تاریکی' آندھی کے وقت ان سب صورتوں میں غسل کرلینا مستحب ہے۔
(درمختاروردالمحتار،کتاب الطہارۃ،مطلب یوم عرفۃ افضل من یوم الجمعۃ، ج۱،ص۳۴۱۔۳۴۲)
مسئلہ:۔جس پر غسل فرض ہو اس کو بغیر نہائے (۱)مسجد میں جانا(۲)طواف کرنا (۳)قرآن مجید کا چھونا (۴)قرآن شریف کا پڑھنا (۵) کسی آیت کو لکھنا حرام ہے اور فقہ و حدیث اور دوسرے دینی کتابوں کا چھونا مکروہ ہے مگر آیت کی جگہوں پر ان کتابوں میں بھی ہاتھ لگانا حرام ہے۔
(درمختاروردالمحتار،کتاب الطہارۃ،مطلب یطلق الدعاء علی مایشمل الثناء ،ج۱،ص۳۴۶۔۳۵۶)
مسئلہ:۔درود شریف اور دعاؤں کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں مگر بہتر ہے کہ وضو یا کلی کرلے۔ (بہارشریعت،ج۱،ح۲،ص۴۳)
مسئلہ:۔غسل خانہ کے اندر اگرچہ چھت نہ ہوننگے بدن نہانے میں کو ئی حرج نہیں ہاں عورتوں کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے مگر ننگے نہائے تو قبلہ کی طرف منہ نہ کرے اور اگر تہبند باندھے ہوئے ہو تو نہاتے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ (مراقی الفلاح،کتاب الطہارۃ،فصل آداب الغسل،ص۲۵)