Brailvi Books

جنتی زیور
227 - 676
اور سارے بدن بلکہ نہانے کے برتن تک کو نجس کر دیتی ہے اس لئے نہانے میں لازم ہے کہ پہلے بدن کو اور اس کپڑے کو جس کو پہن کر نہاتے ہیں دھو کر پاک کر لیں ورنہ غسل تو کیا ہوگا اس تر ہاتھ سے جن چیزوں کو چھوئیں گے وہ بھی ناپاک ہو جائیں گی۔ اور سارا بدن اور تہبند بھی ناپاک ہی رہ جائے گا۔

مسئلہ:۔غسل میں سر کے بال گندھے ہوئے نہ ہوں تو ہر بال پر جڑ سے نوک تک پانی بہنا ضروری ہے اور اگر گندھے ہوئے ہوں تو مرد پر فرض ہے کہ ان کو کھول کر جڑ سے نوک تک ہر بال پر پانی بہائے اور عورت پر صرف بال کی جڑوں کو تر کر لینا ضروری ہے گندھے ہوئے بالوں کو کھولنا ضروری نہیں۔ ہاں اگر چوٹی اتنی سخت گندھی ہوئی ہو کہ بے کھولے جڑیں تر نہ ہوں گی تو چوٹی کو کھولنا ضروری ہے۔
(درمختاروردالمحتار،کتاب الطہارۃ،مطلب فی ابحاث الغسل،ج۱،ص۳۱۵۔۳۱۶)
مسئلہ:۔غسل میں کانوں کی بالیوں اور ناک کی کیل کے سوراخوں میں بالیوں اور کیل کو پھرا کر پانی پہنچانا ضروری ہے۔
(فتاوی رضویہ،ج۱،ص۴۴۸)
کن کن چیزوں سے غسل فرض ہو جاتا ہے:۔جن چیزوں سے غسل فرض ہو جاتا ہے وہ پانچ ہیں۔ (۱)منی کا اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ جدا ہو کر نکلنا(۲)احتلام یعنی سوتے میں منی نکل جانا (۳)ذکر کے سر کا عورت کے آگے یا پیچھے یا مرد کے پیچھے داخل ہونادونوں پر غسل فرض کر دیتا ہے(۴)حیض کا ختم ہو جانا (۵)نفاس سے فارغ ہونا۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ،الباب الثانی فی الغسل، الفصل الثالث فی المعانی الموجبۃ للغسل وھی ثلاثۃ،ج۱،ص۱۴۔۱۶)
Flag Counter