Brailvi Books

جنتی زیور
200 - 676
 (۲)کسی سے کہا گناہ نہ کرو ورنہ خدا جہنم میں ڈال دے گا۔ اس نے کہا ''میں جہنم سے نہیں ڈرتا'' یا یہ کہا ''مجھے خدا کے عذاب کی کوئی پروا نہیں'' یا ایک نے دوسرے سے کہا کہ کیا تو خدا سے نہیں ڈرتا؟ اس نے غصہ میں کہہ دیا کہ ''میں خدا سے نہیں ڈرتا'' یہ کہہ دیا کہ ''خدا کہاں ہے'' یہ سب کفر کی بولیاں ہیں۔
 (الفتاوی الھندیۃ ، کتاب السیر ، الباب التاسع فی احکام المرتدین مطلب موجبات الکفر انواع، ج۲،ص۲۶۰۔۲۶۲)
 (۳)کسی سے کہا کہ ان شاء اﷲ تم اس کام کو کرو گے اس نے کہہ دیا کہ ''اجی میں بغیر ان شاء اﷲ کے کروں گا۔'' کافر ہوگیا۔
 (الفتاوی الھندیۃ ، کتاب السیر ، الباب التاسع فی احکام المرتدین مطلب موجبات الکفر انواع، ج۲،ص۲۶۱)
 (۴)کسی مالدار کو دیکھ کر یہ کہہ دیا کہ ''آخر یہ کیسا انصاف ہے کہ اس کو مالدار بنادیا مجھے غریب بنا دیا۔'' یہ کہنا کفر ہے۔
 (۵)اولاد وغیرہ کے مرنے پر رنج اور غصہ میں اس قسم کی بولیاں بولنے لگے کہ خدا کو بس میرا بیٹا ہی مارنے کے لئے ملا تھا۔ دنیا بھر میں مارنے کے لئے میرے بیٹے کے سوا خدا کو دوسرا کوئی ملتا ہی نہیں تھا۔ خدا کو ایسا ظلم نہیں کرنا چاہے تھا۔ اﷲعزوجل نے بہت برا کیا کہ میرے اکلوتے بیٹے کو مار کر میرا گھر بے چراغ کردیا۔ اس قسم کی بولیاں بول دینے سے آدمی کافر ہو جاتا ہے۔

(۶)خدا کے کسی کام کو برا کہنا یا خدا کے کاموں میں عیب نکالنا یا خدا کامذاق اڑانا یا خدا کی بے ادبی کرنا یا خدا کی شان میں کوئی پھوہڑ لفظ بولنا یا خدا کو ایسے لفظوں سے یاد کرنا جو اس کی شان کے لائق نہیں ہیں۔ یہ سب کفر کی باتیں ہیں۔
Flag Counter