Brailvi Books

جنتی زیور
191 - 676
قیامت کا بیان
    توحید و رسالت کی طرح قیامت پر بھی ایمان لانا ضروریاتِ دین میں سے ہے جو شخص قیامت کا انکار کرے وہ کھلا ہوا کافر ہے۔
(المعتقد المنتقدمع المعتمد المستند،من اقر بالجنۃ والناروالحشرلکن اولھا۔۔۔الخ،ص۱۸۰)
    ہر مسلمان کے لئے اس عقیدہ پر ایمان لانا فرض عین ہے کہ ایک دن یہ زمین آسمان بلکہ کل عالم اور سارا جہان فنا ہو جائے گا۔ اسی دن کا نام ''قیامت'' ہے۔
                (پ۲۷،الرحمن:۲۶/ پ۲۰،القصص:۸۸)
    قیامت سے پہلے چند نشانیاں ظاہر ہوں گی۔ جن میں سے چند یہ ہیں۔

(۱)دنیا میں تین جگہ آدمی زمین میں دھنسا دیئے جائیں گے۔ ایک مشرق میں،دوسرامغرب میں،تیسراجزیرۂ عرب میں ۔
(صحیح البخاری، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب فی الآیات التی تکون قبل الساعۃ،رقم۲۹۰۱،ص۱۵۵۱)
(۲)علم اٹھ جائے گا۔
(صحیح البخاری، کتاب العلم، باب رفع العلم وظھور الجھل،رقم۸۰،ج۱،ص۴۷ )
(۳)جہالت کی کثرت ہوگی۔
(صحیح البخاری، کتاب العلم، باب رفع العلم وظھور الجھل،رقم۸۰،ج۱،ص۴۷ )
(۴)علانیہ زنا کاری بکثرت ہونے لگے گی۔
(صحیح المسلم،  کتاب العلم، باب رفع العلم وقبضہ وظھورالجھل والفتن فی آخر الزمان، رقم۲۶۷۱،ص۳۴ ۱۴)
(۵)مردوں کی تعداد کم ہو جائے گی اور عورتیں بہت زیادہ ہوں گی۔ یہاں تک کہ ایک
Flag Counter