(۷)دین پر قائم رہنا اتنا ہی دشوار ہوگا جیسے مٹھی میں انگارا لینا۔
(جامع ترمذی، کتاب الفتن، باب ۷۳،رقم۲۲۶۷،ج۴،ص۱۱۵)
یہاں تک کہ آدمی قبرستان میں جاکر تمنا کریگا کہ کاش میں اس قبر میں ہوتا۔
(صحیح مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب لاتقوم الساعۃ حتی یمر الرجل بقبر الرجل فیتمنی ان یکون مکان المیت من البلاء،رقم۱۵۷،ص۱۵۵۵)
(۸)لوگ علم دین پڑھیں گے مگر دین کے لئے نہیں۔
(جامع الترمذی، کتاب الفتن ، باب ماجاء فی علامۃ حلول المسخ والخسف،رقم ۲۲۱۷،ج۴،ص۹۰)
(۹) مرد اپنی عورت کا فرمانبردار ہوگا اور ماں باپ کی نافرمانی کرے گا۔
(جامع الترمذی، کتاب الفتن ، باب ماجاء فی علامۃ حلول المسخ والخسف،رقم ۲۲۱۸،ج۴،ص۹۰)
(۱۰)مسجدوں میں لوگ شور مچائیں گے۔
(جامع الترمذی، کتاب الفتن ، باب ماجاء فی علامۃ حلول المسخ والخسف،رقم ۲۲۱۸،ج۴،ص۸۹)
(۱۱)گانے بجانے کا رواج بہت زیادہ ہوجائے گا۔
(جامع الترمذی، کتاب الفتن ، باب ماجاء فی علامۃ حلول المسخ والخسف،رقم ۲۲۱۸،ج۴،ص۹۰)