عقیدہ :۶ایمان دار اور نیکوں کی قبریں کسی کی ستر ستر ہاتھ چوڑی ہو جاتی ہیں۔
(سنن الترمذی،کتاب الجنائز،باب ماجاء فی عذاب القبر،رقم۱۰۷۳،ج۲،ص۳۳۷)
اور کسی کسی کی قبریں اتنی چوڑی ہو جاتی ہیں کہ جہاں تک اس کی نگاہ جاتی ہے۔
(مشکاۃ المصابیح ، کتاب الجنائز ، باب مایقال عند من حضرہ الموت،الفصل الثالث، رقم۱۶۳۰،ج۱،ص۴۵۸)
اور کافروں اور بعض گنہگاروں کی قبر اس قدر زور سے دباتی ہے اور اس قدر تنگ ہو جاتی ہے کہ ادھر کی پسلیاں ادھر اور ادھر کی پسلیاں ادھر ہو جاتی ہیں۔
(جامع الترمذی،کتاب الجنائز، باب ماجاء فی عذاب القبر،رقم ۱۰۷۳،ج۲،ص۳۳۷)
عقیدہ :۷قبر میں جو کچھ عذاب و ثواب مردے کو دیا جاتا ہے اور جو کچھ اس پر گزرتی ہے وہ سب چیزیں مردہ کو معلوم ہوتی ہیں۔ زندہ لوگوں کو اس کا کوئی علم نہیں ہوتا۔ جیسے سوتا ہوا آدمی خواب میں آرام و تکلیف اور قسم قسم کے مناظر سب کچھ دیکھتا ہے ۔ لذت بھی پاتا ہے اور تکلیف بھی اٹھاتا ہے۔ مگر اس کے پاس ہی میں جاگتا ہوا آدمی ان سب باتوں سے بے خبر بیٹھا رہتا ہے۔