Brailvi Books

جنتی زیور
189 - 676
عقیدہ :۳یہ خیال کہ مرنے کے بعد روح کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے خواہ وہ کسی آدمی کا بدن ہو یا کسی جانور کا جس کو فلا سفر ''تناسخ ''اور ہندو ''آواگون'' کہتے ہیں یہ خیال بالکل ہی باطل اور اس کا ماننا کفر ہے۔
 (الفتاوی الھندیۃ، کتاب السیر، الباب التاسع فی احکام المرتدین، ج۲،ص۲۶۴ / النبراس،باب والبعث حق،ص۲۱۳)
عقیدہ :۴جب آدمی مرجاتا ہے تو اگر گاڑا جائے تو گاڑنے کے بعد اور اگر نہ گاڑا جائے تو وہ جہاں بھی ہو اور جس حال میں بھی ہو اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں جن میں سے ایک کا نام ''منکر''اور دوسرے کا نام ''نکیر'' ہے یہ دونوں فرشتے مردہ سے سوال کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ اور حضرت محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ یہ کون ہیں؟ اگر مردہ ایماندار ہو تو ٹھیک ٹھیک جواب دیتا ہے کہ میرا رب اﷲعزوجل ہے۔ میرا دین اسلام ہے اور حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم اﷲعزوجل کے رسول ہیں۔
 (النبراس،مبحث عذاب القبر وثوابہ،ص۲۰۶،۲۱۰/سنن الترمذی، کتاب الجنائز،باب ماجاء فی عذاب القبر،رقم ۱۰۷۳،ج۲،ص۳۳۷)
پھر اس کے لئے جنت کی طرف ایک کھڑکی کھول دیتے ہیں۔ جس سے ٹھنڈی ٹھنڈی جنت کی ہوائیں اور خوشبوئیں قبر میں آتی رہتی ہیں۔ اور مردہ آرام و چین کے مزہ میں پڑ کر اپنی قبر میں سکھ کی نیند سو رہتا ہے اور اگر مردہ ایماندار نہ ہو تو سب سوالوں کے جواب میں یہی کہتا ہے کہ مجھے کچھ نہیں معلوم ہے ۔ پھر اس کی قبر میں دوزخ کی طرف ایک کھڑکی کھول دی جاتی ہے اور جہنم کی گرم گرم ہوائیں اور بدبو قبر میں آتی رہتی ہیں۔ اور مردہ طرح طرح کے سخت عذابوں میں گرفتار ہوکر تڑپتا اور بے قرار رہتا ہے فرشتے اس کو گرزوں سے مارتے ہیں اور
Flag Counter