Brailvi Books

جنتی زیور
188 - 676
اپنے اپنے اعمال کے اعتبار سے کسی کو آرام ملتا ہے اور کسی کو تکلیف۔
                    (بہارشریعت،ج۱،ح۱،ص۲۴)
عقیدہ :۱مرنے کے بعد بھی روح کا تعلق بدن کے ساتھ باقی رہتا ہے۔ اگر چہ روح بدن سے جدا ہوگئی ہے مگر بندے پر جو آلام یا صدمہ گزرے گا روح ضرور اس کو محسوس کرے گی اور متاثر ہوگی۔ جس طرح دنیاوی زندگی میں بدن پر جو راحت اور تکلیف پڑتی ہے اس کی لذت اور تکلیف روح کو پہنچتی ہے۔ اسی طرح عالم برزخ میں بھی جو انعام یا عذاب بدن پر واقع ہوتا ہے۔ اس کی لذت اور تکلیف روح کو پہنچتی ہے۔
            (شرح العقائد النسفیۃ، مبحث عذاب القبر،ص۱۰۱)
عقیدہ :۲مرنے کے بعد مسلمانوں کی روحیں ان کے درجات کے اعتبار سے مختلف مقامات میں رہتی ہیں۔ بعض کی قبر پر' بعض کی زمزم شریف کے کنویں میں' بعض کی آسمان و زمین کے درمیان' بعض کی آسمانوں میں'بعض کی عرش کے نیچے قندیلوں میں' بعض کی اعلیٰ علیّین میں مگر روحیں کہیں بھی ہوں اپنے جسموں سے بدستور ان کو تعلق رہتا ہے جو کوئی اِن کی قبر پر آئے اس کو وہ دیکھتے پہچانتے اور اس کی باتوں کو سنتے ہیں۔
 (شرح الصدور، باب مقر الأرواح، ص۲۳۵۔۲۳۸/الفتاوی الرضویۃ الجدیدۃ،ج۹،ص۶۵۸)
    اسی طرح کافروں کی روحیں بعض ان کے مرگھٹ یا قبر پر رہتی ہیں' بعض کی یمن کے ایک نالہ برہوت میں' بعض کی ساتوں زمین کے نیچے' بعض کی ''سجین'' میں۔لیکن روحیں کہیں بھی ہوں ان کے جسموں سے ان روحوں کا تعلق برقرار رہتا ہے چنانچہ جو ان کے مرگھٹ پر گزرے یا ان کی قبر پر آئے اس کو دیکھتے پہچانتے اور اس کی باتوں کو سنتے ہیں۔
 (شرح الصدور، باب مقر الارواح، ص۲۳۶۔۲۳۷/الفتاوی الرضویۃ الجدیدۃ،ج۹،ص۶۵۸)
Flag Counter