Brailvi Books

جنتی زیور
187 - 676
بھلائی کرنے والا ہوتا تو وہ زید کے لئے بھلائی لکھتا ۔ تو اﷲتعالیٰ نے تقدیر لکھ کر کسی کو بھلائی یا برائی کرنے پر مجبور نہیں کر دیا ہے۔
 (النبراس،مسئلۃالقضاء والقدر،ص۱۷۴۔۱۷۵/ شرح الملاء علی القاری علی الفقہ الاکبر، لم یجبراللہ احدًا من خلقہ،ص۴۸۔۵۳)
عقیدہ :۱تقدیر پر ایمان لانا بھی ضروریات دین میں سے ہے تقدیر کے انکار کرنے والوں کو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اس امت کا ''مجوس'' بتایا ہے۔
 (المعتقد المنتقدمع المستند المعتمد،منہ (۱۴)الاعتقادبقضائہ وقدرہ، ص۵۱۔۵۲)
عقیدہ :۲تقدیر کے مسائل عام لوگوں کی سمجھ میں نہیں آسکتے۔ اس لئے تقدیر کے مسائل میں زیادہ غور و فکر اور بحث و مباحثہ کرنا ہلاکت کا سبب ہے۔ امیرالمومنین حضرت ابوبکر صدیق وامیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہما تقدیر کے مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرما گئے ہیں۔ پھر بھلا ہم تم کس گنتی میں ہیں کہ اس مسئلہ میں بحث و مباحثہ کریں۔ ہمارے لئے یہی حکم ہے کہ ہم تقدیر پر ایمان لائیں۔ اور اس مشکل اور نازک مسئلہ میں ہرگز ہرگز کبھی بحث ومباحثہ اور حجت و تکرار نہ کریں کہ اسی میں ایمان کی سلامتی ہے۔
 (جامع الترمذی، کتاب القدر، باب ماجاء من التشدید فی الخوض فی القدر، رقم ۲۱۴۰،ج۴،ص۵۱/ المعجم الکبیر ،رقم ۱۴۲۳،ج۲،ص۹۵) واﷲ تعالیٰ اعلم۔
عالم برزخ
    مرنے کے بعد اور قیامت سے پہلے دنیا و آخرت کے درمیان ایک اور عالم ہے۔ جس کو ''عالم برزخ'' کہتے ہیں۔
    (پ۱۸،المؤمنون:۱۰۰/ شرح الصدور،باب مقر الأرواح،ص۲۳۶)
تمام انسانوں اور جنوں کو مرنے کے بعد اسی عالم میں رہنا ہوتا ہے۔ اس عالم برزخ میں
Flag Counter