یہی وجہ ہے کہ شہیدوں کا ترکہ تقسیم کردیا جاتا ہے اور ان کی بیویاں عدت کے بعد دوسروں سے نکاح کر سکتی ہیں۔ مگر انبیاء علیہم السلام کا نہ ترکہ تقسیم ہوتا ہے۔
(سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ ، باب فضل العلماء والبحث علی طلب العلم ، رقم ۲۲۳،ج۱،ص۱۴۵/صحیح مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لانورث ، رقم ۱۷۵۹،ص۹۶۶)
نہ ان کی بیویاں عدت کے بعد دوسروں سے نکاح کرسکتی ہیں۔
(پ۲۲،الاحزاب:۵۳/الخصائص الکبری ، باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم،بتحریم النکاح ازواجہ من بعدہ ، ج۲،ص۱۹۰۔۱۹۱)
عقیدہ :۱۳ہمارے آقا و مولیٰ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ''خاتم النبیین'' ہیں۔ یعنی اﷲتعالیٰ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی ذات پر سلسلہ نبوت کو ختم فرما دیا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے زمانہ میں یا اس کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ جو شخص حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے زمانہ میں یا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے بعد کسی کو نبوت ملنے کو مانے یا کسی نئے نبی کے آنے کو ممکن مانے وہ شخص کافر ہے۔
(پ۲۲، الاحزاب:۴۰،المعتقد المنتقد مع المستند المعتمد،تکمیل الباب ، ص۱۲۰)