| جنتی زیور |
قرآن میں یہ ہے کہ نبیوں کو علم غیب حاصل ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ نبیوں کو خدا کے عطا فرمانے سے غیب کا علم حاصل ہے اور جہاں جہاں قرآن میں یہ ہے کہ اﷲ تعالی کے سوا کسی کو بھی علم غیب نہیں ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ بغیر اﷲتعالیٰ کے بتائے ہوئے کسی کو بھی کسی چیز کا علم غیب حاصل نہیں ہے۔ ہرگز ہرگز ان دونوں قسم کی آیتوں میں کوئی تعارض اور ٹکراؤ نہیں ہے۔ عقیدہ :۱۰حضرات انبیائے کرام تمام مخلوق یہاں تک کہ فرشتوں کے رسولوں سے بھی افضل ہیں۔
(بہارشریعت،ج۱،ح۱،ص۱۵)
ولی کتنے ہی بڑے مرتبے والا ہو مگر ہرگز ہرگز کسی نبی کے برابر نہیں ہو سکتا۔( جو کسی غیر نبی کو کسی نبی سے افضل یا برابر بتائے وہ کافر ہے۔)
(الشفاء بتعریف حقوق المصطفی ، فصل فی بیان ماھومن المقالات کفر ، ص۲۵۱)
عقیدہ :۱۱حضرات انبیاء علیہم السلام کے مختلف درجے ہیں۔ اﷲتعالیٰ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے۔
(پ۳،البقرۃ:۲۵۳)
سب سے افضل و اعلیٰ ہمارے حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ہیں۔
(پ۲۲،سبا:۲۸/شرح العقائدالنسفیہ،مبحث افضل الانبیاء علیہم السلام،ص۱۴۱)
پھر حضور کے بعد سب سے بڑا مرتبہ حضرت ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام کا ہے پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام ' پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کا درجہ ہے۔ ان پانچوں حضرات کو مرسلین اولوالعزم کہتے ہیں۔ اور یہ پانچوں باقی تمام انبیاء ومرسلین سے افضل ہیں۔
(حاشیۃ الصاوی علی تفسیر الجلالین، پ۲۶،الاحقاف:تحت آیت ۳۵،ج۵، ص۱۹۴۷ / شرح الملاء علی القاری علی الفقہ الاکبر،تفضیل بعض الانبیاء علی بعض ،ص۱۱۶)
عقیدہ :۱۲حضرات انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قبروں میں تمام لوازمِ حیات کے ساتھ