Brailvi Books

جنتی زیور
179 - 676
عقیدہ :۱۴ہمارے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو اﷲتعالیٰ نے جاگتے میں جسم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے بیت المقدس تک اور وہاں سے ساتوں آسمانوں کے اوپر اور وہاں سے جہاں تک اﷲتعالیٰ کو منظور ہوا رات کے ایک مختصر حصہ میں پہنچایا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے عرش و کرسی اور لوح و قلم اور خدا کی بڑی بڑی نشانیوں کو دیکھا۔ اور خدا کے دربار میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو وہ قرب خاص حاصل ہوا کہ کسی نبی اور فرشتہ کو نہ کبھی حاصل ہوا نہ کبھی حاصل ہوگا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے اس آسمانی سفر کو ''معراج'' کہتے ہیں۔
 (التفسیرات الاحمدیۃ ، بنی اسرآء یل تحت آیت :۱،مسئلۃ المعراج ، ص۵۰۲۔۵۰۵/ النبراس،بیان المعراج، ص۲۹۲۔۲۹۵)
معراج میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اپنے سر کی آنکھوں سے جمال الٰہی عزوجل کا دیدار کیا
 (پ۲۸،النجم:۱۳۔۱۷/فتح الباری شرح صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار، باب المعراج، رقم ۳۸۸۸،ج۸،ص۱۸۶)
اور بغیر کسی واسطہ کے اﷲتعالیٰ کا کلام سنا۔ اور تمام ملکوت السموات والارض کے ذرہ ذرہ کو تفصیل کے ساتھ ملاحظہ فرمایا۔
(روح المعانی، پ۶،النسآء:۱۶۴،ج۳،ص۲۸)
عقیدہ :۱۵ہمارے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو اﷲتعالیٰ نے قیامت کے دن شفاعت کبریٰ اور مقام محمود کا شرف عطا فرمایا ہے۔ جب تک ہمارے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم شفاعت کا دروازہ نہیں کھولیں گے کسی کو بھی مجال شفاعت نہ ہوگی بلکہ تمام انبیاء و مرسلین حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ہی کے دربار میں اپنی اپنی شفاعت پیش کریں گے۔ اﷲعزوجل کے دربار میں درحقیقت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ہی شفیع اوّل و شافع اعظم ہیں۔
 (روح البیان، پ۱۵،الاسراء:۷۹،ج۵،ص۱۹۲/ روح المعانی،پ۱۵، الاسراء:۸۹، ج۸،ص۲۰۲۔۲۰۴)
Flag Counter