یہاں تک کہ زمین و آسمان کا ہر ذرہ ہر نبی کی نظروں کے سامنے ہے۔ مگر حضرات انبیاء علیہم السلام کا یہ علم غیب اﷲتعالیٰ کے عطا فرمانے سے ہے۔
(پ۷،الانعام:۵۰/پ۲۹،الجن:۲۶۔۲۷)
لہٰذا ان کا علم عطائی ہوا۔ اور اﷲتعالیٰ کے علم کا عطائی ہونا محال ہے۔ کیونکہ اﷲتعالیٰ کا کوئی کمال کسی کا دیا ہوا نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اﷲتعالیٰ کا علم اور اس کا ہر کمال ذاتی ہے۔
(پ۷،الانعام:۵۹/پ۲۲،سبا:۳/پ۱۱،یونس:۲۰)
اﷲتعالیٰ اور نبیوں کے علم غیب میں ایک بہت بڑا فرق تو یہی ہے کہ نبیوں کا علم غیب عطائی (اﷲ کا دیا ہوا) ہے اور اﷲتعالیٰ کا علم غیب ذاتی ہے یعنی کسی کا دیا ہوا نہیں ہے۔ کہاں عطائی اور کہاں ذاتی' دونوں میں بڑا فرق ہے۔ جو لوگ انبیاء بلکہ حضرت سید الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے مطلق علم غیب کا انکار کرتے ہیں۔ وہ قرآن کی بعض آیتوں کو مانتے ہیں اور بعض آیتوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔
قرآن مجید میں دونوں قسم کی آیتیں ہیں۔ بعض آیتوں میں یہ ہے کہ خدا کے نبیوں کو علم غیب حاصل ہے اور بعض آیتوں میں یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ کے سوا کسی کو بھی علم غیب نہیں ہے۔ بلاشبہ یہ دونوں آیتیں حق ہیں اور ان دونوں آیتوں پر ایمان لانا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے اور ان دونوں آیتوں میں سے کسی کا بھی انکار کرنا کفر ہے۔ جہاں جہاں